بی جے پی اور سنگھرش سمیتی کا خیرمقدم، این سی اور پی ڈی پی نے جموں کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا
سرینگر/یو این ایس// نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس، رِیاسی کو کم از کم معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث اجازت نامہ واپس لینے کے فیصلے پر جموں و کشمیر میں شدید سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں بی جے پی اور سنگھرش سمیتی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، وہیں نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی نے اسے جموں خطے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔یو این ایس کے م طابق این ایم سی کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ نے حکم نامے میں کہا کہ تعلیمی سال 2025-26کے دوران داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو جموں و کشمیر کے دیگر میڈیکل کالجوں میںمعیاری نشستوں سے زائد( سپرنمری نشستوں) پر منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔بی جے پی کے جموں و کشمیر صدر ست شرما نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اجازت نامہ واپس لینا کم از کم معیار کی عدم تعمیل کی بنیاد پر کیا گیا، تاہم مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنا کر قابلِ تعریف اقدام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف سماجی و سیاسی تنظیمیں سڑکوں پر تھیں کیونکہ یہ ادارہ ہندوؤں کے عطیات سے قائم کیا گیا ہے اور یہ معاملہ عقیدت سے جڑا ہوا تھا۔ادھر بی جے پی کی حمایت یافتہ سنگھرش سمیتی، جو نومبر سے جموں میں احتجاج کی قیادت کر رہی تھی، نے این ایم سی کے فیصلے کے بعد اپنی 45 روزہ تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔ سمیتی کے کنوینر کرنل (ریٹائرڈ) سکھویر سنگھ مانکوٹیا نے کہا کہ اگرچہ احتجاج ختم کیا جا رہا ہے، تاہم شرائن بورڈ کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے میڈیا انچارج (پیر پنجال) وویک شرما نے میڈیکل کالج کی بندش کو جموں کے لیے ’’سنگین دھچکا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ سیاست پر مبنی غلط تحریک کے نتیجے میں نہ صرف مسلم بلکہ ہندو طلبہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سینکڑوں تدریسی و غیر تدریسی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں، جو مقامی معیشت اور خاندانوں کے روزگار کے لیے بڑا نقصان ہے۔وویک شرما نے ’’نفرت کی سیاست‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو مکالمے، اصلاحات اور معیار پر پورا اترنے کے ذریعے مضبوط کیا جانا چاہیے، نہ کہ فرقہ وارانہ ایجنڈے کی نذر کیا جائے۔یو این ایس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان آدتیہ گپتا نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور نیشنل کانفرنس دونوں میڈیکل کالج کی بندش کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جموں کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہے اور خطے کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہوا ہے۔










