پہاڑی زبان کو کشمیر یونیورسٹی اور اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کا سرکار سے کیا مطالبہ
سرینگر / کے پی ایس /ریاض بٹ // ضلع گاندربل کے ولی وار اور کنہن سمبل سرفرا علاقے میں جموں و کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز کی جانب سے دو روزہ پہاڑی زبان کے تحفظ کو برقرار رکھنے کیلئے پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔پروگرام کا اہتمام محمد ایوب میر ایڈیٹر اور ثقافتی آفیسر کی نگرانی میں منعقد کیا گیا جبکہ اس موقعہ پر سماجی کارکن سید جماعت علی شاہین نے بحیثیت مہمان خصوصی پروگرام میں شرکت کی ۔کشمیر پریس سروس نمائندہ ریاض بٹ کے موصولہ تفصیلات کے مطابق تقریب کے اس موقعہ پر وادی بھر سے مختلف فنکاروں، ادیبوں شاعروں، گلوکاروں نے پروگرام میں شرکت کر کے رنگا رنگ پروگراموں کا مظاہرہ کیا اس دوران ممہان خصوصی سید جماعت علی شاہین نے پہاڑی زبان کے تحفظ کے لئے درپیش جدوجہد کے بارے میں شرکاء کو آگاہی دی اور مشترکہ ذمہ داری کے اہمیت پر زور دیا اس دوران محمد ایوب میر نے کہا کہ پہاڑی زبان کو ہر شعبے میں محفوظ اور فروغ دینا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ پہاڑی زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کیلئے ہماری کوششیں جاری رہے گی پروگرام کے آخر پر نوجوان صحافی سید نزاکت خلیفہ نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ پہاڑی زبان کو یونیورسٹی سطح پر تعلیمی اداروں میں شامل کیا جائے اور ساتھ انہوں پہاڑی کمونیٹی کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادری زبان کو یاد رکھیں اور اس کی قدر کریں تاکہ پہاڑی قبیلے کی ثقافت اور نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔










