کابینہ کمیٹی برائے سلامتی میٹنگ میںوزیرِاعظم کی سربراہی میںمغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر اقدامات کا جائزہ

وقف املاک کا صحیح استعمال کیا جاتا تو مسلمان نوجوانوں کو سائیکل پنکچر ٹھیک کرکے روزی روٹی کمانے کی ضرورت نہیں پڑتی

وقف اراضی کے غلط استعمال نے مسلم برا دری کے پسماندہ طبقات کو ان کی جائز حقوق سے محروم کر دیا / وزیر اعظم مودی

سرینگر // اگر وقف املاک کا صحیح استعمال کیا جاتا تو مسلمان نوجوانوں کو سائیکل کے پنکچر ٹھیک کرکے روزی روٹی کمانے کی ضرورت نہیں پڑتی کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان جائیدادوں کی بدانتظامی کا ذمہ دار لینڈ مافیوں کو قرار دیا جنہوں نے دلتوں، پسماندہ طبقات اور بیواؤں کیلئے زمینوں کا استحصال کیا۔سی این آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اگر وقف املاک کا صحیح طریقے سے انتظام کیا جاتا تو مسلم نوجوان روزی روٹی کیلئے پنکچر نہیں لگاتے۔معروف انگریزی روزنامہ ہند وستان ٹائمز کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ اگر وقف املاک کا صحیح استعمال کیا جاتا تو مسلم نوجوانوں کو سائیکل کے پنکچر ٹھیک کرکے روزی روٹی کمانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے ان جائیدادوں کی بدانتظامی کا ذمہ دار لینڈ مافیوں کو قرار دیا جنہوں نے، ان کے مطابق، دلتوں، پسماندہ طبقات اور بیواؤں کے لیے زمینوں کا استحصال کیا‘‘۔یہ تبصرے حال ہی میں منظور کیے گئے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تناظر میں کیے گئے ہیں، جس کا مقصد وقف املاک کے انتظام میں اصلاحات لانا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ وقف اراضی کے غلط استعمال نے مطلوبہ استفادہ کنندگان بالخصوص مسلم کمیونٹی کے پسماندہ طبقات کو ان کی جائز حمایت سے محروم کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے اس بیان کی اپوزیشن لیڈران نے سخت تنقید کی ۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنے دور حکومت میں غریبوں کی فلاح و بہبود میں وزیر اعظم کے تعاون پر سوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا اور وقف قوانین کو کمزور کرنے پر تنقید کی۔ کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے بھی مودی کے ذریعہ استعمال کی جانے والی زبان پر تنقید کی، اور تجویز کیا کہ یہ سوشل میڈیا ٹرول کی یاد دلاتی ہے اور بی جے پی کے سیاسی فریم ورک میں مسلمانوں کی نمائندگی کی کمی کو اجاگر کرتی ہے۔