سری نگر// وسطی کشمیر کے دو مختلف اضلاع میں جمعرات کو ایک عمر رسیدہ خاتون نے مبینہ طور پر کوئی زہریلی شئے کھا کر خود کشی کی جبکہ ایک جوان سال خاتون نے خود سوزی کرنے کی کوشش کی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں جمعرات کو ایک 75 سالہ خاتون نے اپنے ہی گھر میں کوئی زہریلی شئے کھا لی۔انہوں نے بتایا کہ خاتون کو علاج کے لئے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔دریں اثنا پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہیں۔وسطی کشمیر کے ہی قصبہ چاڈورہ کے ہفرو علاقے میں ایک 32 سالہ غیر مقامی خاتون نے خود سوزی کرنے کی کوشش کی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قصبہ چاڈورہ کے ہفرو علاقے میں جمعرات کو ایک 32 سالہ خاتون نے اپنے آپ پر کوئی آتشگیر سیال چھڑک کر خود سوزی کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون کو فوری طور پر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے اس کو سری نگر ریفر کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ خاتون کا یہ انتہائی قدم اٹھانے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔دریں اثنا پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں روزانہ بنیادوں پر خود کشی کے واقعات درج ہو رہے ہیں جس سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ وادی میں جاری نامساعد حالات کی وجہ سے لوگوں کے ذہنی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور رہی سہی کسر کورونا وبا نے دور کر دی۔غلام احمد نامی ایک اسکالر نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وادی میں زندگئی گذارنے کے بدلتے ہوئے معیارات، دیکھا دیکھی، دولت و طاقت کی نمود و نمائش اور اخلاقی تعلیم و تریبت سے دوری بھی چند ایسی چیزیں ہیں جو خود کشی کے رجحان کے بڑھنے کی وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا ذہنی صحت صرف نامساعد حالات سے ہی متاثر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے گرد وپیش کے سیاسی، سماجی و معاشی حالات بھی اس کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی تعلیم و تربیت ایک شخص کے نفسیات کو پختہ بنا کر اس میں برداشت و مزاحمت کی قوت کو مستحکم بنا دیتی ہے لیکن یہاں اس قسم کی تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔موصوف نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اچھا انسان بننے کے بجائے دولت مند بننے کی تعلیم دے رہے ہیں جس کے خود کشی جیسے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خود کشی کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ذہنی طور متاثر لوگوں کی منظم طریقے سے تعلیم و تربیت کی جائے۔










