سری نگر//وزیر برائے محکمہ زراعت، دیہی ترقیات و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار نے حضرت بل کے کھمبر میں شیپ بریڈنگ فارم کا دورہ کیا تاکہ وہاں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے اور آسٹریلیا سے درآمد کی گئی نئی ٹیکسل نسل کی بھی جانچ کی جاسکے ۔ اِس موقعہ پر وزیر کے ہمراہ رُکن اسمبلی حضرت بل سلمان علی ساگر بھی تھے۔دورے کے دوران ڈائریکٹر محکمہ شیپ ہسبنڈری کشمیر رفیق احمد اور دیگر افسران نے وزیر کو بتایا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈی پی) کے تحت آسٹریلیا سے 450 اعلیٰ معیار کی ٹیکسل بھیڑیں درآمد کی گئی ہیں جن میں 338 مادہ اور 112 نر شامل ہیں۔ اِس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر میں سالانہ 310 لاکھ کلوگرام مٹن کی طلب کو پورا کرنا ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نسل کھمبر فارم میں جدید و سائنسی طریقوں سے پالی جائے گی اور ان کی نسلی ریکارڈنگ محفوظ رکھی جائے گی۔ پہلی نسل (ایف 1) کی افزائش سے حاصل شدہ بھیڑیں کسانوں کو دی جائیں گی تاکہ مخصوص علاقوں میں نسل کو آگے بڑھایا جا سکے اور مقامی نسل کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے اعلیٰ معیار کے نر ٹیکسل بھی مہیا کئے جائیں گے جس کی منظوری سکاسٹ کی سائنسی مشاورتی کمیٹی سے لی جائے گی۔وزیرموصوف نے کام کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’ٹیکسل نسل جموں و کشمیر میں لائیو سٹاک اِنڈسٹری کے لئے ایک اِنقلابی قدم ثابت ہوگی۔ اِس سے نہ صرف بھیڑ پالنے کے طریقوں میں بہتری آئے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کسانوں کو ٹیکسل نسل کے فوائد اور اس کی نگہداشت سے متعلق آگاہ کرنے کے لئے بیداری کیمپ منعقد کئے جائیں۔ ان کیمپوں کے ذریعے سائنسی طریقہ کار کو فروغ دیا جائے گا تاکہ جدید شیپ ہسبنڈری کو اپنایا جا سکے۔ وزیر نے آسٹریلیا سے ٹیکسل بھیڑوں کی کامیاب درآمد پر ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔وزیر کے اس دورے سے حکومت کے جانوروں کی افزائش کے شعبے کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے جس کا مقصد جدیدیت، سائنسی انتظام اور کسانوں کو مرکزی حیثیت دینا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ دیں گے بلکہ جموں و کشمیر کے کسانوں کو بھی بہتر مستقبل کی جانب لے جائیں گے۔










