وزیر زراعت نے کولنگام کپواڑہ کا دورہ کیا

وزیر زراعت نے کولنگام کپواڑہ کا دورہ کیا

اخروٹ کی تحقیق پر سنٹر فار ایکسیلنس کے انتظامی اور لیب بلاکس کا سنگِ بنیاد رکھا

کپواڑہ//زراعت کی پیداوار ، دیہی ترقی اور پنچائتی راج کے وزیر جاوید احمد ڈار نے آج کولنگام ( کپواڑہ ) کا دورہ کیا اور اخروٹ کی تحقیق پر سنٹر فار ایکسیلنس کے انتظامی کم لیبارٹری بلاکس کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ سکاسٹ کشمیر کے اس اہم پروجیکٹ کو نابارڈ کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے اور اسے 3.50 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے ۔

سنٹر کے فیکلٹی ممبران اور علاقے کے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کپواڑہ ضلع میں سنٹر فار ایکسیلنس پر کام شروع کرنے پر سکاسٹ کشمیر کو مبارکباد دی جو شمالی کشمیر کے لوگوں کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو گا ۔ انہوں نے سکاسٹ فیکلٹی پر زور دیا کہ وہ افسروں سے زیادہ فیلڈ میں کسانوں کی طرح رہیں ۔ مسٹر جاوید ڈار نے خطے میں زرعی تحقیق ، تعلیم اور دیہی ترقی کو آگے بڑھانے میں سکاسٹ کشمیر کے کردار کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ سکاسٹ کشمیر کے اقدامات نے زرعی اختراعات کو فروغ دیا ہے ، کسانوں کی فلاح و بہبود میں مدد کی ہے اور زراعت ، باغبانی اور پھولبانی کو فروغ دیا ہے ۔ وزیر موصوف نے سنٹر فار ایکسیلنس کیلئے 200 کنال اراضی الاٹ کرنے پر ضلعی انتظامیہ کو سراہا ۔ وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سنٹر فار ایکسی لینس فار اخروٹ کئی اہم کاموں خاص طور پر زرعی اختراعات ، تحقیق اور علم کی ترسیل کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا جس سے پیداواری صلاحیت ، معاشی استحکام اور اخروٹ کی صنعت کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی ۔ اس سے قبل مسٹر جاوید ڈار کے ساتھ ایم ایل اے لنگیٹ خورشید احمد شیخ ، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ، چیف جنرل منیجر نابارڈ ، ڈائریکٹر ریسرچ ، اے ڈی ڈی سی کپواڑہ ، اے ڈی سی ہندواڑہ نے اس پروجیکٹ کے سائٹ پلان کا معائینہ کیا ۔ وزیر نے سٹالز کا بھی معائینہ کیا اور سکاسٹ کشمیر کے فیکلٹی ممبران اور کسانوں سے بات چیت کی اور ان کی شکایات سُنیں ۔