وزیر داخلہ امت شاہ کا جموں و کشمیر دورہ، بین الاقوامی سرحد پر اگلے مورچوں کا معائنہ

وزیر داخلہ امت شاہ کا جموں و کشمیر دورہ، بین الاقوامی سرحد پر اگلے مورچوں کا معائنہ

دراندازی روکنے، دہشت گرد نیٹ ورکوںکے خاتمے اور فورسز کے باہمی تال میل پر زور، منشیات کو قومی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار

سرینگر// یو این ایس // مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر کے دورے کے دوران ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے اگلے علاقوں کا معائنہ کیا اور بعد ازاں جموں کے لوک بھون میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی اور ترقیاتی اجلاسوں کی صدارت کی۔ یہ دورہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے انجام دیا گیا۔یو این ایس کے مطابق وزیر داخلہ نے کٹھوعہ ضلع کے ہیرانگر سیکٹر میں واقع سرحدی چوکیوں گرنام اور بوبیئن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سرحد کی حفاظت پر مامور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے دراندازی، اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اہلکاروں سے زمینی صورتحال پر براہ راست فیڈبیک حاصل کیا۔اس موقع پر امت شاہ نے بوبیئن بارڈر آؤٹ پوسٹ سے بی ایس ایف اہلکاروں کے لیے چھ فلاحی اسکیموں کا آن لائن افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ حکام کے مطابق گزشتہ برس اگست-ستمبر میں آنے والے مون سون سیلاب کے دوران بی ایس ایف کی متعدد چوکیوں اور سرحدی باڑھ کو نقصان پہنچا تھا، جس کی مرمت اور بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔سرحدی دورے کے بعد وزیر داخلہ نے لوک بھون جموں میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں جموں و کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، بالخصوص جموں خطے کے پہاڑی اضلاع میں سرگرم غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، مرکزی وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام، نیم فوجی دستوں کے سربراہان، خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالن پربھات اور پولیس و انٹیلی جنس کے دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔حکام کے مطابق اجلاس میں کٹھوعہ، ادھم پور، کشتواڑ، ڈوڈہ، پونچھ اور راجوری اضلاع میں سیکورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ دو ہفتوں کے دوران مختلف مقابلوں میں جیشِ محمد سے وابستہ چار پاکستانی ملی ٹنٹ ہلاک کیے گئے ہیں، جن میںبسن ت گڑھ (ادھم پور) اور چھترو (کشتواڑ) میں ہونے والی کارروائیاں شامل ہیں۔وزیر داخلہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی مشن موڈ میں جاری رکھی جائے اور سرحد پر زیرو دراندازی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے انٹیلی جنس کو مزید مضبوط بنانے اور بین محکمانہ تال میل بہتر کرنے پر زور دیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا جامع جائزہ لیا۔ میٹنگ میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہرایا گیا اور سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دراندازی کے راستوں کو بند کرنے، دہشت گرد ماڈیولز کو مکمل طور پر ختم کرنے اور آپسی تال میل کو مزید مضبوط بنائیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے خصوصاً کشتواڑ، ڈوڈہ، راجوری اور پونچھ اضلاع کی سیکورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا، جہاں سیکورٹی فورسز گھنے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف مسلسل سرچ آپریشن انجام دے رہی ہیں۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ میٹنگ کا مرکزی محور دراندازی کی روک تھام، دہشت گردی کے ماڈیولز کو توڑنے اور فوج، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانا رہا۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ حکام نے وزیر داخلہ کو انٹلیجنس شیئرنگ میکانزم، تکنیکی نگرانی، ایریا ڈومینیشن پلان، اور دہشت گردوں کی مالی معاونت و لاجسٹکس نیٹ ورکس کو ناکام بنانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔یو این ایس کے مطابق ایک اور اعلیٰ افسر کے مطابق، ’’میٹنگ میں جموں و کشمیر کے مجموعی سیکورٹی منظرنامے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس میں حالیہ واقعات، ابھرتے ہوئے خطرات اور امن و استحکام برقرار رکھنے میں ہونے والی پیش رفت شامل ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دباؤ برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں منشیات کے مسئلے کو بھی ایک بڑے قانون و نظم اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کیلئے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ذرائع کے مطابق امت شاہ نے منشیات نیٹ ورکس کے خلاف زیادہ جارحانہ اور انٹلیجنس پر مبنی کارروائیوں کی ہدایت دی۔وزیر داخلہ نے جموں خطے میں مجموعی سیکورٹی صورتحال، اسلحہ و گولہ بارود کی حالیہ برآمدگیوں، اور ولیج ڈیفنس گارڈز سمیت کمیونٹی بیسڈ سیکورٹی اقدامات کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ایک افسر نے کہا، ’’حکمت عملی یہ ہے کہ خطرات کا پیشگی اندازہ لگا کر کارروائی کی جائے، نہ کہ صرف واقعات کے بعد ردِعمل دیا جائے۔‘‘ذرائع کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس گرمیوں کے سیزن سے قبل سیکورٹی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کیلئے اہم ثابت ہوگا اور اس سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ سیکورٹی گرڈ پوری طرح چوکس اور متحرک ہے۔میٹنگ کے اختتام پر وزیر داخلہ نے سیکورٹی مزید سخت کرنے، بین ایجنسی تال میل بہتر بنانے اور دہشت گرد و مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیوں کیلئے قابلِ عمل ہدایات جاری کیں۔یو این ایس کے مطابق بعد ازاں امت شاہ نے لوک بھون میںدہشت گردی کے شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ میں ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری کے احکامات تقسیم کیے اور ان سے ملاقات کر کے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اسی روز وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی سے متعلق ایک علیحدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی بھی صدارت کی، جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں، مرکزی اسکیموں کی پیش رفت اور آئندہ ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزارت داخلہ کے سینئر افسران اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران شریک ہوئے۔قابل ذکر ہے کہ امت شاہ جمعرات کی رات دیر گئے جموں پہنچے تھے، جہاں ہوائی اڈے پر ان کا استقبال لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے کیا۔ ان کے دورے کے پیش نظر جموں خطے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔حکام کے مطابق وزیر داخلہ ہفتہ کے روز نئی دہلی واپس روانہ ہوں گے۔