s jai shankar

وزیر خارجہ جے شنکر کا لچک، جدت، تعاون اور پائیداری پر زور

برکس پلیٹ فارم پر بھارت کا موسمیاتی انصاف، صاف توانائی اور پائیدار ترقی کے لیے اشتراک کا اعلان

سرینگر// یو این ایس// وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت کی برکس 2026 چیئرمین شپ چار بنیادی ترجیحات لچک جدت تعاون اور پائیداری پر مبنی ہوگی، جو برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس کی سمت متعین کریں گی۔برکس 2026 کے لوگو اور سرکاری ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ترجیحات برکس کے تین بنیادی ستونوں سیاسی و سیکورٹی تعاون، اقتصادی و مالی شراکت داری، اور ثقافتی و عوامی روابط کے درمیان ایک مضبوط اور مربوط فریم ورک فراہم کریں گی۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ لچک کے تحت بھارت برکس ممالک کے ساتھ مل کر ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے مضبوط بنائے گا جو عالمی بحرانوں اور غیر متوقع حالات کا مقابلہ کر سکیں۔جے شنکر کے مطابق زراعت، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے، توانائی اور سپلائی چین کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے ذریعے اجتماعی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گا۔جدت کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا مؤثر استعمال ترقی پذیر ممالک کو درپیش سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں قریبی تعاون ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ تعاون اور پائیداری بھی بھارت کی برکس چیئرمین شپ کی کلیدی ترجیحات میں شامل ہیں۔ان کے مطابق بھارت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، صاف توانائی کے فروغ اور منصفانہ و حساس ترقیاتی ماڈل کی حمایت کے لیے برکس شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔برکس کے نئے لوگو کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ یہ لوگو بھارت کے نقط نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج دکھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگو میں شامل پنکھڑیوں کے رنگ تمام برکس ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اتحاد، تنوع اور مشترکہ مقصد کی علامت ہیں۔تقریب کے دوران برکس انڈیا کی سرکاری ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی، جو بھارت کی چیئرمین شپ کے دوران ہونے والی سرگرمیوں، اجلاسوں اور فیصلوں سے متعلق معلومات فراہم کرے گی۔ حکام کے مطابق اس ویب سائٹ سے شفافیت، رابطے اور عالمی سطح پر بہتر معلوماتی تبادلے میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ برکس کی اصطلاح پہلی مرتبہ 2001 میں گولڈمین سیکس نے متعارف کرائی تھی۔ ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، جبکہ 2011 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد یہ برکس بن گیا۔بعد ازاں 2024 میں مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کو مکمل رکنیت دی گئی، جبکہ جنوری 2025 میں انڈونیشیا بھی مکمل رکن بنا۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک کو بطور پارٹنر شامل کیا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی برکس چیئرمین شپ 2026 نہ صرف عالمی سطح پر نئی سفارتی سمت متعین کر سکتی ہے بلکہ ترقی پذیر دنیا کے لیے بھارت کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔