وزیر اور رُکن پارلیمان نے مدارس میں مذہبی سائنسی تعلیمی کے اِمتزاج پر زور دیا

وزیر اور رُکن پارلیمان نے مدارس میں مذہبی سائنسی تعلیمی کے اِمتزاج پر زور دیا

مینڈھر//مینڈھر کے مکہ ایجوکیشن پبلک سکول میں ایک انتہائی فکر انگیز اور علمی اعتبار سے بامعنی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امورجاوید احمد رانا اور رُکن پارلیمان راجوری۔اننت ناگ میاں الطاف احمد نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اَساتذہ، طلباء ، والدین اور کمیونٹی رہنماؤں سے خطاب کیا۔اِس موقعہ پر سکول کو ایک مثالی ادارہ قرار دیا گیا جہاں مذہبی تعلیمات کو جدید سائنسی تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایسے شہری تیار کئے جا رہے ہیں جو اخلاقی طور پر مضبوط اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیار ہوں۔جاوید احمد رانا نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم محض رٹا لگانے کا عمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ اَفراد اور معاشرے کو بدلنے والی ایک طاقت ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مذہبی اور سائنسی تعلیم ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ تکمیلی پہلو رکھتے ہیں جو ایک ہمہ جہت اور متوازن شخصیت کی تشکیل میں کلیدی رول اَدا کرتے ہیں۔وزیرموصوف نے تعلیم میں صنفی برابری کی بھی بھرپور وکالت کی اور لڑکیوں کی تعلیم کو معاشرتی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔دونوں معزز مہمانوں نے مکہ ایجوکیشن پبلک سکول کے نصاب اور سماجی روابط کے ویژنری ماڈل کو سراہا۔اُنہوں نے زور دیا کہ علاقے بھر میں بالخصوص روایتی مدارس میں ایسے تعلیمی ماڈلوں کو فروغ دیا جائے جو مذہبی شناخت کا احترام کرتے ہوئے سائنسی خواندگی اور شہری بیداری کو بھی فروغ دیں۔