ایران میں طلبہ کے تحفظ کیلئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
سرینگر/یو این ایس//جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے ایران میں بدلتی صورتحال اور وہاں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ و دیگر افراد کی سلامتی کے حوالے سے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بات کی ہے۔ وزیر خارجہ نے انہیں زمینی صورتحال اور وزارت خارجہ کی جانب سے اختیار کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔یو این ایس کے مطابق ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں وزیراعلیٰ نے کہا’’میں نے ایران میں بدلتی صورتحال پر وزیر خارجہ سے بات کی۔ انہوں نے زمینی حالات اور وزارت خارجہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور دیگر افراد کی سلامتی یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔‘‘ادھر ایران کی صورتحال کے باعث وہاں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کے والدین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ کئی والدین کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن غیر یقینی صورتحال نے انہیں ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔سری نگر کے ایک والد نے بتایا’’ہمارا بیٹا تہران میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ موجودہ حالات سن کر دل دہل جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ طلبہ سے مستقل رابطہ رکھے اور اگر ضرورت پڑے تو انہیں واپس لانے کے انتظامات کرے۔‘‘متعدد والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایران میں موجود تمام کشمیری طلبہ کا ڈیٹا مرتب کرے، ایک ہیلپ لائن قائم کی جائے اور اہل خانہ کو باقاعدگی سے صورتحال سے آگاہ رکھا جائے تاکہ تشویش کی فضا کم ہو سکے۔حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر طلبہ کے انخلاء کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔










