سری نگر / / وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے ولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی (ڈبلیو یو سی ایم اے)،ولر و مانسبل ڈیولپمنٹ اَتھارٹی اور ہائیگام۔ننگلی۔تاز ڈیولپمنٹ اَتھارٹی کے کام کے بارے میں ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔میٹنگ میں رُکن قانون ساز اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ سیاحت ڈاکٹر آشش چندر ورما، کمشنر سیکرٹری جنگلات شیتل نندا، چیف کنزرویٹر فارسٹ کشمیر عرفان رسول وانی، ڈائریکٹر ٹوراِزم کشمیر راجا یعقوب اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔ ممبر اسمبلی سوپور نے ڈبلیو یوسی ایم اے اور ٹوراِزم ڈیولپمنٹ اَتھارٹیوںکے سائلو میں کام کرنے کے کئی مسائل اُٹھائے اور محکمہ جنگلات، سیاحت، ماہی پروری، پی ڈبلیو (آر اینڈ بی)، جل شکتی اور دیہی ترقی جیسے محکموں کے درمیان مضبوط تال میل پر زور دیا۔ اُنہوں نے وٹلب اورننگلی میں سیاحتی ہٹوںکی نظراندازی، ڈیسلٹنگ ، ڈریجنگ کی سست رفتاری، ولر جھیل کے تحفظ اور کنارے کے دیہات میں ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کی ضرورت پر توجہ دِلائی۔وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور سیاحتی ہٹوں کی مرمت اور ہائی وے پر سیاحوں کے لئے وے سائیڈسہولیات کی تعمیر کے لئے مقامات کی نشاندہی کی ہدایات جاری کیں۔ اُنہوں نے بالخصوص محکمہ جنگلات اور سیاحت کے درمیان بہتر منصوبہ بندی اور جھیل کے تحفظ کے لئے باہمی تال میل پر زور دیا تاکہ جھیل کے کیچ منٹ ائیریا میں دیرپا سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جھیل میں سلٹیشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے 1.21 لاکھ درختوں کی کٹائی کی گئی ہے اور محکمہ جنگلات نے رواں مالی برس میں ولر کے تحفظ کے لئے’’ کامن مینجمنٹ پلان‘‘ کی عمل آوری کے لئے 25 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔
مشیرموصوف نے ولو کے درختوں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ دریجنگ اور ڈیسلٹنگ کے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ درختوں کی کٹائی کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لئے مخصوص مقامات پر متبادل شجر کاری اِنتہائی ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ولر۔مانسبل اور ہائیگام۔ ننگلی۔تازو ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کے دائرہ کار کا جائزہ لے گی تاکہ دیکھا جا سکے آیا ان دونوں سیاحتی اتھارٹیوں کو بہتر کارکردگی کے لئے ضم کیا جا سکتا ہے جبکہ ولر یو سی ایم اے ولر جھیل کے تحفظ پر کام جاری رکھے گی۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری کو بھی جھیل میں مختلف اقسام کی مچھلیاں دوبارہ شامل کرنے، حیاتیاتی تنوع اور جھیل کے ماحولیاتی نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔مشیر موصوف نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں ولر جھیل ایک ’رامسر‘ سائٹ ہے اور اسے بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی زمین کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ولر جھیل ماحولیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع، سیلاب پر قابو پانے، پانی کے ذخیرے کی بحالی اور وادی ٔکشمیر میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔










