سری نگر//وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے سول سیکرٹریٹ میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری (کے سی سی آئی) کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل پر غور و خوض کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ، ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کشمیر مسرت الاسلام اور صدرکے سی سی آئی جاوید ٹینگا سمیت دیگر متعلقین نے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ صدرکشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری (کے سی سی آئی) نے ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم سیکٹر سے متعلقہ مسائل بالخصوص حالیہ نوٹسز کے حوالے سے بات کی جو محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کی جانب سے کشمیری ہینڈی کرافٹس شوروموںکو جاری کئے گئے تھے۔ اِن نوٹسز میں ہاتھ سے بنے ہوئے مصنوعات کے ساتھ مشین سے تیار کردہ اشیأ کی فروخت پر اعتراض اُٹھایا گیا تھا۔ اُنہوں نے پی ٹی کیو سی سی لیب، باغ علی مردان خان میں جی آئی مصنوعات کی جانچ اور سرٹیفیکیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مشیرموصوف کو محکمہ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ نوٹسز سیاحوں کی شکایات کی بنیاد پر جاری کئے گئے جنہوں نے مشین سے تیار شدہ اشیأ کو کشمیری ہینڈی کرافٹس کے طور پر فروخت کئے جانے کی شکایت کی تھی۔ ایک سنگین معاملے میں ایک شوروم کو جعلی جی آئی لیبل لگا کر جعلی پروڈکٹ فروخت کرنے پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا جس کا مقصد صرف خریداروں کو دھوکہ دینا تھا۔اُنہوں نے کشمیری کاریگروں اور بُنکروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ کاریگروں اور دستکاری کے کاروبار سے وابستہ تمام شراکت داروںکے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک جامع تجویز پیش کرے۔ اُنہوں نے کے سی سی آئی کے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کشمیر کے ساتھ باقاعدہ بات چیت شروع کریں اور جلد از جلد ایک تفصیلی تجویز حکومت کو پیش کریںجس میں مشین سے تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کی اجازت کی درخواست کی جائے بشرطیکہ وہ واضح طور پر لیبل کی گئی ہوں اور انہیں الگ مصنوعات کے طور پر فروخت کیا جائے۔یہ شفافیت کو یقینی بنائے گا اور خریداروں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے گا۔کے سی سی آئی کے وفد سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ تمام ڈیلروں کو مستند کشمیری ہینڈی کرافٹس کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ غلط لیبلنگ، برانڈنگ اور جعلی مصنوعات کو اصل کشمیری ہینڈی کرافٹس کے طور پر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت نے مشیر موصوف کو بتایا کہ محکمہ نے پی ٹی کیو سی سی سمیت دیگر لیبارٹریوںکو اَپ گریڈ کرنے کے لئے متعدد اَقدامات کئے ہیں جن میں ایک جدید ڈیجیٹل مائیکروسکوپ شامل کیا گیا ہے جبکہ مزید اعلیٰ درجے کی مشینیں جیسے ایس اِی ایم اور ایچ آر ڈیجیٹل مائیکرو سکوپ کی خریداری بھی جاری ہے تاکہ جی آئی مصنوعات کی جانچ کی رفتار کو بڑھایا جا سکے۔کے سی سی آئی کے وفد نے مشیر کو ناقص گوشت کی فروخت سے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے نقصان دہ گوشت کے سپلائرز اور ان کی پوری سپلائی چین کی شناخت کی جائے۔اس کے جواب میں مشیر موصوف نے وفد کو یقین دِلایا کہ حکومت ناقص اور غیر محفوظ خوراک کی فروخت و ترسیل کو روکنے کے لئے تمام ضروری اَقدامات کر رہی ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کا اعتماد صرف اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب اس شعبے سے وابستہ افراد صارفین کو خوراک کی حفاظت اور صفائی کے اصولوں سے متعلق آگاہی دیں کیوں کہ عوامی صحت حکومت کے لئے اوّلین ترجیح ہے۔










