تعلیم اور روز گار کی اہلیت کے درمیان خلاء کو پُر کرنے پر زور ،مستقبل کیلئے تیار نہارتوں کیلئے مشن موڈ اپروچ پر زور
جموں//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں مشن اسکل کے ایکشن پلان کی تشکیل پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے ایک ابتدائی میٹنگ کی صدارت کی جس میں نوجوانوں کو مارکیٹ سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے ایک جامع ، مشن موڈ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ مسٹر سریندر چوہدری ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، چیف سیکرٹری ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری مسٹر دھیرج گپتا ، فائنانس کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، ٹورازم اینڈ پی ڈی ڈی کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پلاننگ ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ کے کمشنر سیکرٹری ، انڈسٹریز اینڈ کامرس کے کمشنر سیکرٹری ، لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ کے سیکرٹری ، جموں و کشمیر بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ، جموں و کشمیر کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹرز ، سینئر پروفیسرز اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے ۔ شرکت کنندگان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ روائتی تعلیمی نظام اکثر طلبہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے جاب مارکیٹ یا انٹر پرنیور شپ کیلئے درکار مہارتوں سے مکمل طور پر آراستہ نہیں کرتا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ رسمی تعلیم اکثر اوقات ہمیں ان مہارتوں سے تیار نہیں کرتی جو ہمیں جاب مارکیٹ میں یا انٹر پرنیور کے طور پر درکار ہوتی ہیں ۔ یہ پرذنٹیشن اور اس مشن کے پیچھے کا خیال اسی خلاء کو پر کرنے کا مقصد رکھتا ہے جو تعلیم اور روز گار کی اہلیت کے درمیان موجود ہے ۔ ‘‘ انہوں نے نوٹ کیا کہ تجویز کردہ مشن نوجوانوں کے پاس موجود مہارتوں اور مارکیٹ کی طلب کردہ مہارتوں کے درمیان موجود خلاء کو تسلیم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا’’ یہ مشن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں اور جو ہمارے پاس ہے اس کے درمیان ایک خلاء موجود ہے ۔ ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اس خلاء کو کیسے پُر کیا جائے ۔ اور ہم اس عمل کو کس مرحلے سے شروع کریں ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مثالی طور پر ہنر کی ترقی سکولنگ کے ابتدائی مراحل سے شروع ہونی چاہئیے ۔ بڑے پیمانے پر اور منظم طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ہنر کی کمی کو منظم طریقے سے دور کرنے کیلئے مشن موڈ فریم ورک اپنانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا ’’ جموں و کشمیر کو مشن اسکیل اپنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں تعلیم اور روز گار کے درمیان خلاء کو پُر کرنا ہے اور نوکریوں کے بازار میں اصل میں مطلوبہ ہنروں کی نشاندہی کرنی چاہئیے ۔ ‘‘ جدید روز گار کی تیزی سے تبدیل ہونے والی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہنر کی ضروریات تیزی سے بدلتی ہیں ۔ انہوں نے مشاہدہ کیا ’’ آج جو درکار ہے وہ کل درکار نہیں رہے گا ۔ کل آپ کو ایسے ہُنر درکار ہوں گے جن کے بارے میں آج آپ نے سُنا بھی نہیں ۔ ‘‘ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ اختراعات نے روز مرہ کی زندگی کو کتنی تیزی سے تبدیل کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ تین یا چار سال پہلے بہت کم لوگ مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلی جنس ) کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔ شائد آئی آئی ٹی یا آئی آئی ایم جیسے اداروں میں موجود لوگ بات کر رہے ہوں گے ، لیکن باقی ہمارے لئے انٹر نیٹ پر انٹیلی جنس استعمال کرنے کا خیال صرف سرچ انجن تک محدود تھا ۔ ہم میں سے کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی یا جیمنی جیسے ٹولز ہماری زندگیوں پر کیا اثر ڈالیں گے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکمے کی مشن کے ابتدائی فریم ورک کی تیاری کی کاوشوں کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا ’’ محکمے نے اس رپورٹ کو تیار کرنے میں بہترین کام کیا ہے ۔ اس میں یقیناً کچھ ترمیم اور مشاورت کی ضرورت ہو گی ، لیکن ہمیں عمل کو موثر رکھنے کے بارے میں بھی خیال رکھنا چاہئیے ۔ ‘‘ ایک واضح عمل درآمد کے نقشے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے متعین ٹائم لائنز اور وسائل کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں فیصلہ کرنا چاہئیے کہ اگلے چھ ماہ ، ایک سال ، ڈیڑھ سال اور دو سال میں ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے پاس موجود پابندیوں کے اندر ہمیں مطلوبہ وسائل کی نشاندہی کرنی چاہئیے اور ان کیلئے پابند ہونا چاہئیے ۔ ‘‘ انہوں نے مزید زور دیا کہ یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون کی اہمیت کو مشن کو موثر اور پائیدار بنانے کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے کس طرح شامل ہوں گے اور ہم نجی شعبے کو اس کوشش میں کس طرح موثر طریقے سے شامل کر سکتے ہیں ۔ ایک بار جب یہ فریم ورک تیار ہو جائے گا تو مشن کو منظم انداز میں رول آؤٹ کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘ اس سے قبل شرکاء نے فریم ورک کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر میں مشن سکل کی کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے اپنی رائے اور تجاویز پیش کیں ۔ اس سے قبل سیکرٹری لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ نے مشن سکل کے تحت ہنر مندی کی ترقی کیلئے تجویز کردہ ایکشن پلان کی تفصیلی پیشکش کی ۔










