وزیر اعلیٰ نے 6 ویں کھیلو انڈیا ونٹر گیمز میں گلمرگ کو بین الاقوامی سکی منزل بنانے کا وژن بیان کیا

وزیر اعلیٰ نے 6 ویں کھیلو انڈیا ونٹر گیمز میں گلمرگ کو بین الاقوامی سکی منزل بنانے کا وژن بیان کیا

مستقبل کے ونٹر سپورٹس کے امکانات کو محفوظ بنانے کیلئے مصنوعی برف کے انفراسٹرکچر پر زور دیا

گلمرگ//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دوبارہ تصدیق کی کہ یہ محض حکومت کا ارادہ نہیں بلکہ گلمرگ کو بین الاقوامی سکی منزل بنانے کیلئے مسلسل اور پائیدار کوششوں کا عزم ہے اور اس وژن پر زور دیا کہ یہ خطے میں کھیلوں اور سیاحت سے وابستہ تمام شعبوں کیلئے مواقع پیدا کرے گا اور فائدہ پہنچائے گا ۔ وزیر اعلیٰ 6 ویں ایڈیشن آف کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، جو پہلے ہی خوبصورت سکی ریزورٹ گلمرگ میں لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے باقاعدہ طور پر افتتاح کی تھی ۔ ملک بھر سے آئے کھلاڑیوں ، افسران اور مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ اس 6 ویں کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے موقع پر میں تمام کھلاڑیوں ، ٹیم ممبران ، خواتین اور حضرات کو آپ کی خوبصورت پھولوں والی وادی گلمرگ میں خوش آمدید کہتا ہوں ۔ چند ہفتے پہلے ہم نے یہاں شدید سردی دیکھی تھی ۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ جب گیمز شروع ہوں گی تو ایسی گرمی ہو گی کہ سکئینگ مشکل ہو جائے گی ۔ ہمیں کچھ ایڈجسٹمنٹس کرنی پڑ سکتی ہیں ۔ ‘‘ عالمی ونٹر سپورٹنگ ایونٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ پچھلے چند دنوں میں ہم اٹلی کے کورٹینا میں ونٹر اولمپکس دیکھ رہے تھے ۔ میں بھارت کے سکیٹر، ہمارے اپنے عارف خان کو مبارکباد دیتا ہوں ، جنہوں نے قومی پرچم لہراٰیا اور ملک کی نمائندگی کی ۔ مجھے امید ہے کہ اس ایڈیشن آف کھیلو انڈیا ونٹر گیمز سے ایک نیا عارف خان ابھرے گا ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے بین الاقوامی ونٹر سپورٹنگ ایونٹس میں بھارت کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ ’’ یہ افسوس کی بات ہے کہ ہماری وسیع آبادی کے باوجود ہم نے ابھی تک ایشین ونٹر گیمز یا اولمپک ونٹر گیمز میں کوئی میڈل حاصل نہیں کیا ۔ چاہے آپ سکئیر ہوں ، مجھے امید ہے کہ آپ میں سے کوئی اس بیانئیے کو بدل دے گا ۔ ‘‘ موسمیاتی تغیرات کے چیلنجزز کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف فطرت پر انحصار نہیں کر سکتے ۔ ہم سال کے آغاز میں کھیلوں کی تاریخیں طے لر لیتے ہیں بغیر یہ جانے کہ برفباری کب ہو گی یا کتنی برف پڑے گی ۔ میں منتظمین سے گذارش کرتا ہوں کہ تاریخیں پہلے ہی طے نہ کریں ۔ آئیے فیصلہ کریں کہ کافی برفباری کے 10 سے 15 دن بعد کھیل منعقد کئے جائیں ۔ ‘‘ طویل مدتی انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مصنوعی برف پیدا کرنے کے نظاموں میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ۔ ’’ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مصنوعی برف کی طرف بڑھیں ۔ مجھے پانی اور بجلی کی کھپت کے بارے میں خدشات کا علم ہے ۔ لیکن اگر ہم یہ انفراسٹرکچر نہ بنائیں تو ایک دن ایسا آ سکتا ہے جب گلمرگ میں سکئینگ بھی نہ کر سکیں اور یہ واقعی افسوسناک ہو گا ۔ ‘‘ اپنی حکومت کے عزم کو دوہراتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ یہ نہ صرف ہمارا ارادہ ہے بلکہ ہماری پوری کوشش ہے کہ گلمرگ کو ایک بین الاقوامی سکی ریزورٹ بنایا جائے ۔ اس سے کھیلوں کو تقویت ملے گی اور سیاحت سے جڑے تمام لوگوں کو معاشی تحفظ حاصل ہو گا ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرمائی سیاحت کے روز گار کے پہلو پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ’’ سیاحت سے وابستہ لوگ جیسے سلیج آپریٹرز ، سکی گائیڈز ، سکی انسٹرکٹرز ، اے ٹی وی ڈرائیورز سب اس برف سے روز گار کماتے ہیں ۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیاحت کو فروغ دینے اور اس کی پائیداری کو یقینی بنانے کیلئے ذرائع اور انفراسٹرکچر فراہم کریں ۔ ‘‘ شرکاء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ میں ایک بار پھر ملک بھر سے آئے تمام کھلاڑیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ اگلے تین دن آپ کیلئے شاندار ہوں گے ۔ جیسا کہ ہمیشہ کہا جاتا ہے ، جیتنا اتنا اہم نہیں جتنا شرکت کرنا ۔ آپ یہاں شرکت کیلئے آئے ہیں اور ہم اس کیلئے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ‘‘ اس موقع پر یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے وزیر مسٹر ستیش شرما ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، ایم ایل اے گلمرگ فاروق احمد شاہ ، چیف سیکرٹری ، ہائی الٹی ٹیوڈ وار فئیر سکول کے کمانڈنٹ ، کمشنر سیکرٹری یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، آئی جی پی کشمیر ، ڈپٹی کمشنر بارہمولہ ، نمائندے ، شرکاء اور دیگر سینئر افسران موجود تھے ۔