وزیر اعلیٰ نے ہانگول اور اس کی رہائش گاہ کے تحفط کیلئے سفارشات پر جلد عملدرآمد کا عہد کیا

کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائینسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ہانگول اور دیگر خطرے سے دوچار انگولیٹس کے تحفظ کے دوسرے بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی دن سے خطاب کیا

سرینگر // وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے آج عہد کیا کہ ان کی حکومت ہانگول کے تحفظ اور دیگر خطرے سے دوچار انگولیٹس کے تحفظ کے دوسرے بین الاقوامی کانفرنس ( 2IHUC-25 ) کی سفارشات پر فوری عمل کرے گی تا کہ اگلی ایسی کانفرنس سے قبل ہانگول اور مارخور کی آبادی میں قابلِ پیمائش پیش رفت حاصل کی جا سکے ۔ وزیر اعلیٰ جو کہ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر ( سکاسٹ ۔ کے ) کے پرو۔ چانسلر بھی ہیں ، نے سکاسٹ ۔ کے شالیمار کیمپس میں تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا ۔ تحفظ کے ماہرین ، سائنسدانوں ، پالیسی سازوں اور بھارت اور بیرون ملک سے آئے ہوئے مندوبین کے ایک معزز اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت کانفرنس کے نتائج کو انتہائی سنجیدگی سے لے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ اپنی حکومتی ساتھیوں کی جانب سے ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کانفرنس سے نکلنے والی سفارشات کو جلد سے جلد نافذ کیا جائے گا ۔ میری امید ہے کہ جب ہم اگلی بار یہاں ملیں گے تو ہانگل اور مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہو گا ۔ ‘‘ مشہور ماہر تحفظ ماحول ایم کے رنجیت سنگھ کے الفاظ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ تحفظ ماحول انسانی فلاح و بہبود سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ اپنے ذاتی افسوس کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے بتایا کہ ڈھاچیگام نیشنل پارک کے قریب رہنے کے باوجود انہوں نے کبھی ہانگل کو ننگی آنکھوں سے نہیں دیکھا ۔ انہوں نے خبر دار کیا ’’ میں نہیں چاہتا کہ ایسی صورتحال پیدا ہو جہاں ہمارے بچے اور پوتے پوتیاں ان انواع کو صرف کتابوں میں تصاویر کے ذریعے جانیں ، جیسے ڈوڈو یا وولی میمتھ ۔ یہ ایک ایسی تباہی ہو گی جسے ہمیں ہر گز نہیں ہونے دینا چاہئیے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے تعلیمی اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا تا کہ عملی نتائج حاصل کئے جا سکیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ جب تک تعلیمی تحقیق اور سرکاری عمل درآمد کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو ، ہم ہانگل جیسے شاندار جانوروں کو کھو دینے کا خطرہ مول لیتے ہیں ۔ ہر نوع کسی وجہ سے موجود ہے ۔ جب وہ ترقی کرتی ہیں ، ماحولیاتی نظام ترقی کرتا ہے ، تو انسانیت بھی ترقی کرتی ہے ۔ ‘‘ خود پسندی کے خلاف خبر دار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انواع ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں فائلوں کے منتقل ہونے کا انتظار نہیں کریں گی ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم بیورو کریٹک تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ اس کانفرنس کے نتائج کو فوری عمل میں تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے بین الاقوامی اور قومی مندوبین کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ایسی کانفرنس زیادہ بار منعقد ہوں گی ۔ تین روزہ ایونٹ میں 200 سے زائد مندوبین شریک ہوئے جن میں امریکا ، برطانیہ ، کنیڈا، مشرق وسطی ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا سے ممتاز جنگلی حیات کے ماہرین ، تحفظ پسند اور حیاتیات دان شامل تھے ۔ شرکاء نے ہانگل ، مارخور اور ہمالین خطے کے دیگر خطرے سے دوچار اونگلیٹس کے تحفط کیلئے تحقیق اورحکمت عملیوں کا تبادلہ کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ’’انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹین وائلڈ لائف سائنسز‘‘ کے عنوان سے ایک ویژن دستاویز جاری کی اور شرکاء میں ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کیں ۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں وزیر جنگلات جاوید احمد رانا ، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر اے گنائی ، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس سریش گپتا اور بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر گونزالیز شامل تھے ۔ اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے نتیجہ اخز کیا ’’ یہی میری امید ہے ، یہی میرا یقین ہے ، اور مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اسے صحیح طریقے سے اپنائیں ، جیسا کہ ہم نے پروجیکٹ ٹائیگر کے ساتھ کامیابی دیکھی اور ہانگل اور مارخور کے ساتھ حوصلہ افزاء علامات دیکھیں ۔ یہ کامیابی بڑھتی رہے گی ۔ ‘‘