وزیر اعلیٰ نے کشمیر کو ٹرین سے جوڑنے پر تاریخی سنگِ میل قرار دیا

وزیر اعلیٰ نے کشمیر کو ٹرین سے جوڑنے پر تاریخی سنگِ میل قرار دیا

کہا، ٹرین کنکٹویٹی سیاحت اور تجارت کو فروغ دے گی اور عوامی آمد رفت میں بہتری آئے گی

کٹراہ// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے ریل کے ذریعے جوڑنے کو ایک ’’تاریخی کارنامہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ پیش رفت سیاحت اور تجارت کو فروغ دے گی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کرے گی۔وزیر اعلیٰ کٹراہ میںوزیر اعظم نریندر مودی کی طر ف سے چناب اور انجی پُلوں کی اِفتتاح اور وادی ٔکشمیر کے لئے’ وَندے بھارت ٹرین‘ کو جھنڈی دِکھانے کی تقریب کے دوران ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ یہ کشمیر کا بقیہ ہندوستان کے ساتھ پہلا ہمہ موسمی قابلِ اِستعمال ریلوے کنکٹویٹی ہے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’جموں و کشمیر کو اس سے زبردست فائدہ ہوگا۔ سیاحت کو بڑا فروغ ملے گا اور ہمارے لوگوں کی روزمرہ زِندگی میں بہتری آئے گی۔‘‘اُنہوں نے خراب موسم کے دوران لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ بند ہونے پر ہوائی کرایوں میں اِضافہ ہوتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اِس ریلوے لائن کے آپریشنل ہونے سے اس مشکل کو کافی حد تک کم کیا جائے گا کیوں کہ یہ عوام کو سستی اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ مہیا کرے گی۔‘‘اُنہوں نے معاشی فوائد کا ذکر کرتے ہوئے خطے کی زرعی پیداوار کے لئے بہتر منڈی تک رسائی کو اہم قرار دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ہمارے سیب، چیری اور دیگر پھل اب ملک بھر اور حتیٰ کہ بین الاقوامی منڈیوں تک تیز رفتاری سے پہنچ سکیں گے جس سے ہمارے کسانوں اور تاجروں کو نمایاں اِقتصادی فائدہ ہوگا۔‘‘وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اِس اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی کامیابی سے تکمیل جموںوکشمیر کی ترقی کے لئے مرکز کے عزم کا ثبوت ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ایک اور اہم انفراسٹرکچر پروجیکٹ مکمل ہوا ہے۔ ہم دیگر کلیدی منصوبوں جیسے جموں رِنگ روڈ، سری نگر رِنگ روڈ، دہلی۔امرتسر۔کٹرہ ایکسپریس وے، جموں۔سری نگر ہائی وے کی چار لیننگ اور جموں و سری نگر ہوائی اڈوں و ریلوے نیٹ ورک کی توسیع میں بھی تیز پیش رفت کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ وزیر اعظم کی مسلسل حمایت سے جموں و کشمیر جلدہی ایک مکمل ریاست کا درجہ دوبارہ حاصل کرے گا۔اُنہوں نے کہا، ’’آج ایک اور یادگار دن ہے۔ آپ کی قیادت اور سپورٹ سے ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر کو جلد مکمل ریاست کا درجہ واپس ملے گا۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں ریلوے کے تاریخی لمحات کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اننت ناگ ریلوے سٹیشن، بانہال ریلوے ٹنل کی ا،فتتاحی تقاریب اور 2014 میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ حکومت کی آخری تقریب میں بھی موجود تھے۔اُنہوں نے کہا،’’آپ اسے اتفاق کہیں یا مقدر، لیکن مجھے ہمیشہ جموں و کشمیر کی ریلوے تاریخ کے اہم سنگ میلوں پر موجود رہنے کا موقعہ ملا۔‘‘اُنہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کشمیر کو ریلوے سے جوڑنے کا خواب نوآبادیاتی دور سے دیکھا جا رہا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’برطانوی راج کے دوران بھی منصوبے بنائے گئے جیسے اُوڑی اور جہلم ریلوے لائنیں لیکن وہ کبھی مکمل نہ ہو سکیں۔ جو کام برطانوی نہیں کر سکے، آپ نے اسے حقیقت بنا دیاہے۔ آپ نے کشمیر کو بقیہ ہندوستان اور اس کے ذریعے دُنیا سے جوڑ دیا۔ یہ واقعی ایک تاریخی کارنامہ ہے۔‘‘اُنہوں نے سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ہی سب سے پہلے کشمیر ریلوے پروجیکٹ کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ پیش رفت شری اٹل بہاری واجپائی جی کے ویژن کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اس ریلوے لائن کو قومی اہمیت کا منصوبہ قرار دیا۔ اس کے بعد سے اس پروجیکٹ کو مستقل بجٹ اور ترجیح حاصل رہی۔‘‘اُنہوں نے اپنی حکومت کے ترقیاتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایک خوشحال خطے کے ویژن کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہماری حکومت ’وِکست جموں کشمیر، وِکست بھارت‘۔ ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر، ایک ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کے لئے پُر عزم ہے اور ہم اَپنے خطے کے لوگوں کے لئے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔‘‘ آخرمیں وزیر اعلیٰ نے جموںوکشمیر کے لوگوں کی طرف سے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے کہا، ’’اِس تاریخی دن پرجموں و کشمیر کے لوگوں کی طرف سے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ اور مُبارک باد پیش کرتا ہوں، عزت ماب وزیر اعظم، آپ کی حمایت اور دہائیوں پرانے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دینے پر آپ کا شکریہ۔‘‘