وزیر اعلیٰ نے مرحوم مسعود چودھری کی تیسری برسی پر خراجِ عقیدت پیش کیا

جی ڈی سی ٹی میں قبائلی مطالعات کیلئے ایک وقف شدہ ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ

جموں //وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے جموں میں گوجر دیش چیریٹیبل ٹرسٹ ( جی ڈی سی ٹی ) کے بانی ، سابق آئی پی ایس افسر ، ممتاز تعلیم دان مرحوم ڈاکٹر مسعود احمد چودھری کی تیسری برسی کی تقریب میں شرکت کی اور ان کی زندگی اور ورثے کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ ملک و معاشرے کی ممتاز خدمت کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر چودھری کو ایک دور اندیش سرکاری ملازم قرار دیا جو دیانتداری ، ادارہ سازی اور بے لوث لگن کی علامت تھے ۔ انہوں نے ڈاکٹر چودھری کے بابا غلام شاہ بادشاہ ( بی جی ایس بی ) یونیورسٹی راجوری کے بانی وائس چانسلر کے طور پر اہم کردار اور گوجر بکروال برادری اور جموں و کشمیر کے دیگر پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کیلئے زندگی بھر کی لگن کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی سی ٹی کے ذریعے ڈاکٹر چودھری نے ایک مضبوط اداراتی بنیاد رکھی ، سکول قائم کئے اور ریڈنگ روم ، لائیبریری ، میوزیم اور کلچر سینٹر جیسے مقامات کو پروان چڑھایا ۔ تا ہم وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ اس دور اندیش شخصیت کو حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہو گا کہ ان اداروں کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ان کیلئے قائم کئے گئے تھے ، انہی برادریوں کو فعال طور پر فائدہ پہنچائیں ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے ، خاص طور پر گوجر بکروال جیسی خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں کیلئے وزیر اعلیٰ نے جی ڈی سی ٹی کے تحت ایک وقف شدہ ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ، ہجرت کے نمونوں ، روز گار کی کمزوریوں اور قبائلی ثقافت و روایات کے طویل مدتی تحفظ جیسے مسائل پر گہری تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ’’ حکومت کے پاس سب کیلئے اسکیمیں ہیں ، لیکن منفرد چیلنجز کا سامنا کرنے والی برادریوں کو توجہ مرکوز تحقیق اور موزوں حل کی ضرورت ہے ۔ علم رکھنے والے لوگوں کی تیار کردی ریسرچ پیپرز پالیسی کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ان کے مستقبل کی حفاظت کیسے بہترین طریقے سے کی جائے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے قبائلی یونیورسٹیوں کے تصور اور کام کاج پر بھی تحقیق کرنے کی تجویز پیش کی تا کہ دیگر جگہوں پر ان کے اثرات کا جائیزہ لیا جائے اور جموں و کشمیر میں ایسی اداروں کو کامیاب بنانے کیلئے ایک روڈ میپ تیار کیا جائے جس میں یہ یقینی بنایا جائے کہ قبائلی برادریاں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں ۔ برادری میں ریٹائیرڈ اور خدمت انجام دینے والے افسران ، وکلاء اسکالرز ، اساتذہ اور دانشوروں کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ٹرسٹ پر زور دیا کہ وہ ڈاکٹر چودھری کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے اس اجتماعی حکمت کو استعمال کریں ۔ انہوں نے کہا ’’ مرحوم ڈاکٹر مسعود احمد چودھری کو بہترین خراجِ عقیدت یہ ہو گا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے اس ادارے کے قیام کے مقصد کو پورا کریں جس کیلئے انہوں نے یہ ادارہ قائم کیا تھا ، تا کہ ان کی برادری کو فائدہ ہو اور لوگوں کی زندگیاں بدلیں ۔ ‘‘ اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، وزیر جاوید احمد رانا ، ایم ایل اے وکرم رندھاوا ، کئی ارکانِ اسمبلی ، سابق وزیر رمن بھلہ ، اسلم قریشی ( ریٹائیرڈ آئی اے ایس ) ، شیخ شکیل سینئر ایڈووکیٹ جموں و کشمیر ہائی کورٹ ، عبدالحمید چودھری پیٹرن ان چیف جی ڈی سی ٹی ، ارشاد علی چودھری چئیر مین جی ڈی سی ٹی ، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور ممتاز سول سوسائٹی ارکان اور گوجر برادری کے نمائندے موجود تھے ۔