وزیر اعلیٰ نے ’’ درّ ِنایاب ‘‘ جاری کی ، سکینہ ایتو نے اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کیا

کتاب وزیر سکینہ ایتو نے قلمبند کی جو سابق سپیکر اور وزیر مرحوم ولی محمد ایتو کی زندگی ، خدمات اور قربانی کو بیان کرتی ہے

سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے ’’ درِّ نایاب ‘‘ جاری کی ، جو مرحوم ولی محمد ایتو کی سوانح حیات ہے اور اسے ان کی بیٹی اور وزیر اعلیٰ کی کابینہ میں وزیر محترمہ سکینہ ایتو نے تصنیف کیا ہے ۔ یہ کتاب مرحوم ولی محمد ایتو کی زندگی اور خدمات کا احاطہ کرتی ہے جو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق وزیر اور سپیکر تھے ، جو 18 مارچ 1994 کو جموں میں قتل کر دئیے گئے تھے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے مرحوم رہنما کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں ’’ ایک بہادر ، قابل ، ایماندار اور محنتی شخص قرار دیا جو جموں و کشمیر کے عوام کیلئے اپنی جان قربان کر گئے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ میں مرحوم ایتو صاحب سے مل چکا ہوں ، اگرچہ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا ‘‘ ’’ان کی شخصیت ان کا کام کرنے کا انداز اور عوام سے ان کے تعلقات آج اس ہال میں نظر آنے والی محبت اور احترام سے واضح ہیں ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے یاد کیا کہ مرحوم ایتو نے شدت پسندی کے پرآشوب دور میں بھی اپنے اصولوں اور اپنی پارٹی سے وفاداری برقرار رکھی ۔مسٹر عمر عبداللہ نے کہا ’’ ہمارے بہت سے ساتھیوں کو ان برسوں میں جموں منتقل ہونا پڑا لیکن وہاں بھی ایتو صاحب کبھی بیکار نہیں بیٹھے ۔ وکیل ہونے کے ناطے انہوں نے اپنے قانونی علم کا استعمال ان لوگوں کی مدد کیلئے کیا جو پریشانی میں تھے ۔ وہ اپنے آخری سانس تک عوام کی خدمت کرتے رہے ۔ ‘‘ دل سے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہاں ولی محمد ایتو نے اپنے بے لوث کاموں سے ایک ناقابلِ فراموش نشان چھوڑا ، وہیں انہوں نے کمیونٹی کو ایک اور بڑا احسان کیا کہ ایک بہادر بیٹی عطا کی ۔ انہوں نے کہا ’’ ایک بہادر باپ نے اس کمیونٹی کو ایک بہادر بیٹی دی ۔ اگر آج ایتو صاحب زندہ ہوتے تو وہ سکینہ جی پر فخر کرتے ۔ نور آباد ، کلگام اور پورے جموں و کشمیر میں ان کی خدمت اور وابستگی ان کے والد کے آئیڈیلز کا زندہ خراج ہے ۔ ‘‘
وزیر سکینہ ایتو کی ادبی کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا ’’ میں سکینہ جی کو ہمیشہ ایک قابل ایم ایل اے اور اہل وزیر کے طور پر جانتا تھا ۔ لیکن آج ان کی ایک اور جہت کا پتہ چلا ۔ ایک ادبیہ کی ۔ اس کتاب کے ذریعے انہوں نے یقینی بنایا ہے کہ آنے والی نسلیں ایک ایسے لیڈر کی زندگی اور مشن سے آگاہ ہوں جو اپنے لوگوں اور اپنی سرزمین کیلئے وقف تھا ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے وزیر سکینہ ایتو کو مبارکباد پیش کی اور سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے بھی ان کی کوشش کی تعریف کی کہ انہوں نے اپنے والد کی میراث کو آنے والے وقتوں کیلئے محفوظ کیا ۔ تقریب کے دوران اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، سابق وزیر اور ایم ایل اے خانیار علی محمد ساگر ، سابق سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور ایم ایل اے عید گاہ مسٹر مبارک گُل ، ایم ایل اے کلگام ایم یوسف تاریگامی اور سابق قانون ساز رتن لال گپتا نے بھی مرحوم ولی محمد ایتو کی زندگی ، وراثت اور عام لوگوں سے گہرے تعلق پر بات کی ۔ اس تقریب میں وزیر جاوید ڈار ، ستیش شرما ، نو منتخب راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ جی ایس اوبرائے ، کئی ایم ایل ایز اور کلگام ، نور آباد ، ڈی ایچ پورہ اور ملحقہ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے جو شہید لیڈر کیلئے دیرپا محبت اور احترام کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مرحوم ولی محمد ایتو کی زندگی کی عکاسی کرنے والی ایک مختصر فلم بھی چلائی گئی ۔