وزیر اعلیٰ نے جموں ضلع کے مجموعی ترقیاتی منظر نامے کا جائیزہ لیا

وزیر اعلیٰ نے جموں ضلع کے مجموعی ترقیاتی منظر نامے کا جائیزہ لیا

19.05 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور 13.48 کروڑ روپے کی لاگت کے کاموں کی بنیاد رکھی ، سیوریج مشینیں اور ایمبولینس کو روانہ کیا

جموں// وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے جموں ضلع کے مجموعی ترقیاتی منظر نامے کا جائیزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ، جس میں کلیدی انفراسٹرکچر منصوبوں کو تیز کرنے ، آبپاشی کی سہولیات کو بہتر بنانے ، سیلاب کی مستقل بحالی کے کاموں کو مضبوط کرنے اور فنڈز کے بہترین استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ مسٹر سریندر کمار چودھری ، وزراء سکینہ ایتو ، جاوید احمد رانا ، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما ، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، ضلع ترقیاتی کونسل جموں کے چئیر مین مسٹر بھارت بھوشن ، جموں کے رُکن پارلیمنٹ مسٹر جگل کشور شرما اور ضلع کے تمام اراکین اسمبلی نے شرکت کی ۔ چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری مسٹر دھیرج گپتا ، جموں کے ڈویژنل کمشنر ، جموں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ، ڈپٹی کمشنر جموں ، محکمہ جات کے سربراہان اور این ایچ اے آئی ، این ایچ آئی ڈی سی ایل ، بی آر او اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کیپیکس کے تحت شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں کو دستیاب فنڈز کے مطابق جلد مکمل کرنے کی ہدایات دیں ۔ انہوں نے اراکین اسمبلی کو یقین دلایا کہ ہر ایک کو تفصیلی خط بھیجا جائے گا جس میں ان منصوبوں کی صورتحال بیان کی جائے گی جو شروع کئے جا سکتے ہیں ، جو اب تک شروع نہیں ہو سکے ، اس کی وجوہات اور مستقبل کا روڈ میپ شامل ہو گا ۔ انہوں نے کہا ’’ ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ آپ کو لگے کہ کوئی منصوبہ ترجیحی بنیاد پر لیا گیا ہے اور پھر اسے پس پشت ڈال دیا گیا ۔ آپ کو ایک خط ملے گا جس میں وضاحت کی جائے گی کہ ہم کیا کر رہے ہیں ، کیا کر چکے ہیں اور مستقبل میں کیا کرنے کا ارادہ ہے ، تا کہ سب کو مکمل معلومات حاصل رہے ۔ ‘‘ آبپاشی کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ نہروں کے ٹیل اینڈ علاقوں سمیت جامع گراؤنڈ لیول معائنہ کی ضرورت ہے تا کہ مناسب ڈی سلٹنگ یقینی بنائی جائے اور کسانوں کو منصفانہ پانی کی تقسیم ہو ۔ انہوں نے متعلقہ وزیر کو ہدایت دی کہ ایک ٹائم ٹیبل تیار کیا جائے اور مقامی ایم ایل ایز کے ہمراہ سائٹ پر معائنہ کیا جائے ۔ ماضی کی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نہروں کے ٹیل اینڈ پر کسان اکثر ڈی سلٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں ، جس سے پانی اُن تک اس وقت نہیں پہنچتا جب انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ جہاں ممکن ہو ڈی سلٹنگ کے کاموں کو ایم جی این آر ای جی اے کے ساتھ کنور جنس میں کیا جائے تا کہ مزدوری کے اخراجات ایم جی این آر ای جی اے کے تحت پورے کئے جائیں جبکہ مواد اور مشینری کے اخراجات محکمہ برداشت کرے ۔ وزیر اعلیٰ نے نہری آبپاشی کی ناکافی ہونے کی وجہ سے کسانوں کو پمپ استعمال کرنے پر مجبور ہونے کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کیلئے غیر مجاز بجلی کنکشن منقطع نہیں کئے جائیں گے بلکہ انہیں نان میٹرڈ کنکشن کے طور پر ریگولرائز کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اس سال کسانوں کیلئے بجلی کے چارجز میں کوئی اضافہ تجویز نہیں کیا جائے گا ۔ جموں کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مالی سال کے باقی مہینوں میں فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو اب تک کی اچھی کارکردگی اور توقع سے بہتر فنڈ استعمال پر سراہا ۔ انہوں نے ایس اے ایس سی آئی پروجیکٹس ، خاص طور پر گرین فیلڈ پروجیکٹس کی قریبی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا تا کہ بروقت فنڈ استعمال یقینی بنایا جائے اور کیپیکس کے تحت اضافی مالی بوجھ سے بچا جائے ۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ اپنے حلقوں میں مشن یووا ایونٹس کے انعقاد کے دوران ایم ایل ایز کو اعتماد میں لیا جائے تا کہ روز گار پیدا کرنے کی اقدامات کیلئے رفتار پیدا ہو ۔ یہ اجاگر کرتے ہوئے کہ مستقل سیلاب بحالی کے کاموں کیلئے 1400 کروڑ روپے سے زیادہ کی منظوری دی گئی ہے ، وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ جموں ضلع کے مختص حصہ کو دانشمندانہ طور پر استعمال کیا جائے تا کہ پائیدار اور طویل مدتی حل یقینی بنائے جائیں ۔
وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو ان کی اجتماعی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا ۔ اجلاس کے دوران متعلقہ وزراء نے بھی اپنے اپنے شعبوں سے متعلق مداخلت کی اور افسران کو مسائل کے فوری ازالے کیلئے موقع پر ہی ہدایات جاری کیں ۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر جموں نے مختلف شعبوں کی مالی اور فزیکلی ترقی پر تفصیلی پرذنٹیشن دی ۔ انہوں نے پبلک ورکس ( آر اینڈ بی ) ، پی ایم جی ایس وائی ، بجلی ، پی ایم اے وائی ۔ جی اور ہی ایم اے وائی ۔ یو ، اسکول ایجوکیشن ، سکل ڈیولپمنٹ ، ہیلتھ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ، ریونیو ، لیبر ، ایگریکلچر اور متعلقہ شعبوں ، جنگلات ، جیالوجی اور کان کنی ، قبائلی امور اور دیگر شعبوں میں حاصل کردہ کامیابیوں اور جاری کاموں پر روشنی ڈالی ۔ ڈی ڈی سی جموں کے چئیر مین ، پارلیمنٹ کے رکن اور ایم ایل ایز نے بھی اپنے اپنے حلقوں سے متعلق مسائل ، مطالبات اور شکایات اٹھائیں جن کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے منصوبوں کی ای سنگ بنیاد رکھی جن کی مالیت 13.48 کروڑ روپے تھے اور سکول ایجوکیشن ، ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ اور رورل ڈیولپمنٹ سے متعلق منصوبوں کا ای افتتاح کیا جن کی مالیت 19.05 کروڑ روپے تھی ۔ انہوں نے ٹرک ماونٹڈ جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں ( 6000 لیٹر ) ، ٹرک ماونٹڈ جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں ( 4000 لیٹر ) ، جیٹنگ ، گرابنگ اور روڈنگ مشینیں ( 3000 لیٹر ) اور اوپن نالہ ڈی سلٹنگ مشینیں جو ٹپر چیسس پر ماونٹڈ اور ایکسٹینڈ ایبل کرین کے ساتھ ہیں ، کو روانہ کیا ۔ اس موقع پر سی ایچ سی پلانوالہ کیلئے ایک ایمبولینس بھی روانہ کی گئی ۔