وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی پری بجٹ مشاورت کا سلسلہ جاری

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی پری بجٹ مشاورت کا سلسلہ جاری

اہم محکموں سے ملاقاتیں، ترقیاتی ترجیحات اور عوامی ضروریات پر غور

سرینگر/ یو این ایس//وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی پری بجٹ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مختلف اہم سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد 2 فروری 2026 سے شروع ہونے والے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل ترجیحات کا جائزہ لینا اور ترقیاتی اہداف کو حتمی شکل دینا تھا۔یو این ایس کے مطابق ان مشاورتی اجلاسوں کے دوران مختلف شعبہ جات کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، محکموں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غور کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبے یونین ٹیریٹری کے مجموعی اہداف اور عوامی فلاح و بہبود سے ہم آہنگ ہوں۔ مختلف محکموں کے افسران نے وزیر اعلیٰ کو اپنی سفارشات پیش کیں اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔یہ اجلاس وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے بجٹ کی منصوبہ بندی کو منظم بنانے اور ایسے اقدامات کو ترجیح دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں جو جموں و کشمیر میں پائیدار ترقی اور بہتر عوامی فلاح کو یقینی بنا سکیں۔وزیراعلیٰ، جو ریاست کے وزیر خزانہ بھی ہیں، آج سے مختلف انتظامی محکموں کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے تاکہ بجٹ 2026-27کو جامع اور مو ¿ثر بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ خزانہ کی جانب سے تیار کردہ شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ 20، 21 اور 22 جنوری کو مجموعی طور پر 24 انتظامی محکموں کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ ان میں سے آٹھ محکمے وہ ہیں جن کے قلمدان خود وزیراعلیٰ کے پاس ہیں۔شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ 21 اور 22 جنوری کو ان محکموں کے ساتھ میٹنگیںہوں گی جن کی سربراہی کابینہ کے دیگر وزراء کر رہے ہیں۔نوٹس کے مطابق محکمہ خزانہ نے تمام وزراء ، وزیراعلیٰ کے مشیر، چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اجلاسوں میں لازمی شرکت کریں تاکہ بجٹ سے متعلق اہم تجاویز اور ترجیحات پر غور کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق بجٹ 2-25-26وزیراعلیٰ عمر عبداللہ 6 فروری کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کریں گے۔ یہ دوسرا موقع ہوگا جب وہ خود بجٹ ایوان میں پیش کریں گے۔ اس سے قبل موجودہ مالی سال کا بجٹ 7 مارچ 2025 کو پیش کیا گیا تھا۔سیاسی و انتظامی حلقوں کے مطابق ان مشاورتی اجلاسوں کا مقصد ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں اور مالی ترجیحات کو بجٹ میں مناسب جگہ دینا ہے تاکہ آنے والے مالی سال میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بجٹ 2026-27کی تیاری کے سلسلے میں مرکزی سطح پر بھی سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے نئی دہلی میں منعقدہ یونین حکومت کی پیش بجٹ مشاورتی نشست میں شرکت کی جہاں انہوں نے جموں و کشمیر کو درپیش مالی چیلنجز کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے مرکز سے مزید مالی تعاون اور ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور مالی خود انحصاری کو مستحکم بنانے کے لیے اضافی وسائل کی مانگ بھی رکھی۔ ادھر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 فروری 2026 سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کا آغاز لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب سے ہوگا، جبکہ 6 فروری کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ایوان میں بجٹ 2026-27پیش کریں گے۔