قومی تعلیمی پالیسی پر ایک روزہ کانفرنس سے خطاب
سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے قومی تعلیمی پالیسی(این اِی پی)۔ 2020 کو ایک ویژنری دستاویز قرار دیتے ہوئے اس کی جامع، ہمہ گیر اور مقامی حالات سے ہم آہنگ عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کی حقیقی روح کو سمجھنے اور نچلی سطح پر مؤثر عمل درآمد پر ہے۔اِن باتوں کا اظہار وزیر اعلیٰ نے شیرِ کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس ’جامع تعلیم کے لئے تعلیمی رہنماؤں کو بااِختیار بنانا‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے غور و فکر اور نصاب کی اِصلاح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا،’’نئی تعلیمی پالیسی کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ ہم کہاں کامیاب رہے، کہاں کمی رہی اور آگے بہتری کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے این اِی پی۔2020 کو ایک ’وسیع النظر اور دوررس‘ فریم ورک قرار دیا اور کہا کہ اس کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب اسے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق اَپنایا جائے۔اُنہوں نے تعلیمی نظام میں مضامین کی کمی اور اساتذہ کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ،’’جموں میں بہت کم سکول اردو پڑھاتے ہیں، کشمیر میں ہندی کا یہی حال ہے۔ کشمیری، ڈوگری اور پنجابی جیسے علاقائی زبانوں کی تدریس بھی محدود ہے جنہیں مرحلہ وار وسائل کے مطابق بہتر بنایا جانا چاہیے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے سرکاری و نجی سکولوں کے درمیان موازنہ پربھی توجہ دی اور کہا ،’’سری نگر میں سکول کھولنا آسان ہے، مگر گریز، ٹنگڈاریا مژھل میں ایسا کرنا چیلنج ہے۔ ہمارے اَساتذہ مشکل حالات میں کام کرتے ہیں اور وہ قابلِ ستائش ہیں۔‘‘اُنہوںنے نمائش میں شامل طلبأکے تخلیقی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبأ نے پانی کی بچت، پلاسٹک کے متبادل، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بیداری اور سردیوں میں پانی کی فراہمی جیسے مسائل کے عملی حل پیش کئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’ہمارے بچوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ مواقع اور نمائش کی کمی ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیت ،سوچ اور اِختراع ہمیں امیددِلاتی ہے کہ ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے شمولیت پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سوال اُٹھایا،’’کیا ہمارے سکول ہر بچے کے لئے چاہے وہ جسمانی یا ذہنی چیلنجز سے نبرد آزما ہو،واقعی قابلِ رسائی اور جامع ہیں؟یہ ورکشاپ اِس سمت میں ایک اچھا قدم ہے۔‘‘اُنہوںنے ڈیجیٹل تقسیم کے چیلنج کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے حکومتی مالی حالت بہتر ہوگی، اس فرق کو کم کرنے کی کوششیں تیزکی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’جموںوکشمیر کا مستقبل ہمارے معلمین کے ہاتھ میں ہے ۔ اساتذہ صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ وہ شہری بناتے ہیں، اقدار سکھاتے ہیں اور مستقبل کی تعمیر کررہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا،’’آئیے ہم اپنے تعلیمی نظام کو مزید جامع اور تبدیلی لانے کے لئے مل کر کام کریں۔‘‘اُنہوںنے منتظمین کو کامیاب کانفرنس کے اِنعقاد پر مُبارک باد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات تعلیمی شعبے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بنتی ہیں۔اِس موقعہ وزیر تعلیم سکینہ اِیتو، وائس چانسلر اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر شکیل رومشو، اور سیکرٹری سکولی تعلیم رام نواس شرما نے بھی خطاب کیا۔اِس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مختلف سرکاری سکولوں کی جانب سے لگائے گئے نمائشی سٹالوں کا دورہ کیا جس میں طلباء اوراساتذہ کے تیار کردہ جدید ماڈلز اور لائیو مظاہروں کی نمائش کی گئی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سکرٹری دھیرج گپتا، جے اینڈ کے بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، ٹائمز آف انڈیا گروپ کے ڈائریکٹر امیتاوا چٹرجی، روہت شرما، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو،سینئر اَفسران ، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام ، چیف ایجوکیشن اَفسران ، سکول پرنسپلوں ماسٹروں ، اساتذہ ، این اِی پی ماہرین ، طلباء اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔اِ س موقعہ پرآئی یو ایس ٹی اور ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے اور سکول۔یونیورسٹی کے روابط کو مضبوط بنانے کے لئے ایک مفاہمت نامہ پر بھی دستخط کئے گئے۔










