اوڑی( بارہمولہ)//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لائن آف کنٹرول ( ایل او سی) کے ساتھ رہائش پذیر لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے اَپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آج اوڑی سیکٹر میں حالیہ سرحد پار گولہ باری سے متاثرہ متعدد علاقوں کا دورہ کیا جن میں سلام آباد، لگا مہ، بندی، رازر وانی اور گِنگل شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ اُن کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبر قانون ساز اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع،ضلع ترقیاتی کمشنربارہمولہ منگاشیرپا، ایس ایس پی بارہمولہ گرندر پال سنگھ اور دیگر اعلیٰ اَفسران تھے۔وزیر اعلیٰ نے سلام آباد میں متاثرہ کنبوں کے اَفراد سے ملاقات کی اور اُنہیں مستقل اِمداد اور طویل مدتی بحالی کے اَقدامات کی یقین دہانی کی۔ اُنہوں نے مقامی اَفراد سے بات چیت کے دوران کہا،’’یہ میری حکومت کی ذِمہ داری ہے کہ آپ کی زِندگی کو عزت و وقارکے ساتھ دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے ضروری تعاون فراہم کیا جائے۔‘‘اُنہوں نے رازر وانی اوڑی میں نرگس بیگم کے سوگوار کنبے سے اِظہارِتعزیت کی جو شیلنگ کے دوران اَپنی گاڑی میں سوار تھیں اور جب وہ علاقے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں، ایک گولہ اُن کی گاڑی پر آ گرا اور اُن کی جان لے لی۔ اُنہوں نے کہا،’’الفاظ آپ کے غم کی گہرائی یا اس المیے کے پیمانے کو نہیں بیان کر سکتے، میں دعا گو ہوں کہ اللہ آپ کواس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ ہم دُکھ کی اِس گھڑی میں آپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے اوڑی کے لوگوںکے عزم و ہمت کی ستائش کرتے ہوئے کہا،’’یہ سر زمین بے شمار مشکلات کا سامنا 2005 کے تباہ کن زلزلے سے لے کر بار بار کی سرحد پار شیلنگ تک ،کر چکی ہے ۔ اِس کے باجود یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ حوصلہ اور جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘اُنہوں نے متاثرہ کنبوں کے اَفراد سے اِظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ چند دِنوں کے دوران میں نے بے پناہ مصائب اور نقصان کا مشاہدہ کیا لیکن بے مثال ہمت بھی۔ یہ دُورے ترقی اور ترقی کے بارے میں ہونے چاہیے تھے ،غم کے نہیں ، میرے لوگوں کا درد میرے لئے ذاتی ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے لگامہ مارکیٹ کا بھی دورہ کیاجہاں کئی گھروں اور تجارتی اِداروں کو نقصان پہنچا ۔ اِس موقعہ پر انہوں نے ز مینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد متاثرہ اَفراد کو فوری اِمداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔اُنہوں نے گِنگل گاؤں میں این ایچ پی سی کے اوڑی۔1 پن بجلی منصوبے کا معائینہ کیا جسے حالیہ شیلنگ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُنہوں نے این ایچ پی سی کے حکام سے بات چیت کی اور رہائشی کوارٹروں سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا۔وزیر اعلیٰ نے میڈیا اَفرادسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوڑی کی صورتحال ٹنگڈار، راجوری اور پونچھ کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ایسا لگتا ہے کہ اِس واقعے میں شہری علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے جس سے زیادہ جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔شکر ہے کہ اِس وقت جنگ بندی جاری ہے اور ہم نقصانات کا تخمینہ لگانے اور ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے کے لئے تندہی سے کام کر رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے حساس علاقوں میں اِنفرادی بنکروں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا،’’مرکزی حکومت کی مدد سے ہم گولہ باری سے متاثرہ تمام علاقوں میں اِنفرادی بنکروں کی تعمیر کے لئے کام کریں گے۔‘‘










