ترقیاتی کاموں کی تیز رفتار تکمیل اور مالیاتی نظم و ضبط پر سخت سے عمل در آمد کی ہدایت
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میںرواں مالی برس 2025-26 کے لئے کیپکس بجٹ اور حلقہ بندی ترقیاتی فنڈ (سی ڈِی ایف) کے تحت مختلف شعبوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی انجام دہی اوریونین ٹیریٹری کے سرمایہ اخراجات کے تحت محکموں کی طرف سے حاصل کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما کے علاوہ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز برائے اعلیٰ تعلیم، جل شکتی، سیاحت، زرعی پیداوار، وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، تمام اِنتظامی سیکرٹریوں، ڈائریکٹر جنرل بجٹ، ڈی جی ایکس پنڈیچر ڈویژن۔1 ، ڈی جی اکاؤنٹس اینڈ ٹریجریز، ڈی جی کوڈز ،وسائل اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی جبکہ دیگر اضلاع کے افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔وزیراعلیٰ نے محکموں اور اَضلاع کے لحاظ سے کیپکس اور سی ڈِی ایف کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کے مؤثر اِستعمال کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ تمام ترقیاتی کاموں کو بی اِی اے ایم ایس (بیمز) پورٹل پر صدفیصد اَپ لوڈ کیا جائے، اِنتظامی منظوریوں اور ٹینڈرنگ کے عمل کو بالخصوص صوبہ کشمیر میںمیں محدود کام کرنے کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے تیز کیا جائے۔اُنہوںنے محکمہ خزانہ سے کہا کہ وہ ہر حلقے کے لئے بجٹ میں شامل کئے گئے کاموں کی تفصیل تیار کرے جنہیں ممبران اسمبلی نے ترجیح دی ہے اور اَضلاع کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر سی ڈِی ایف کے کام بی ای اے ایم ایس پر اَپ لوڈ کریں، انتظامی منظوری دیں اور جلد از جلد ان پر عمل درآمد شروع کریں۔عمر عبداللہ نے سی ڈی ایف کے کاموں کو تیز کرنے اور زمینی ترقیاتی نتائج کو یقینی بنانے کے لئے ممبران اسمبلی کے ساتھ قریبی تال میل پر زور دیا۔ اُنہوں نے ریونیو کی وصولی کو بڑھانے اور قابل گریز اخراجات کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا،’’جہاں بھی ممکن ہو ہمیں اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا اور غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو رقم مختص کی گئی ہے اسے مختلف سکیموں میں مؤثر طریقے سے خرچ کرنا ہوگا۔‘‘اُنہوں نے متعلقہ وزرأکو ہدایت دی کہ وہ اپنے محکموں میں ہر دو ہفتے بعد اخراجات اور فنڈز کے اِستعمال کا جائزہ لیں۔اِس سے قبل پرنسپل سیکرٹری خزانہ سنتوش دی ویدیا نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں 7 ؍اکتوبر 2025ء تک جموں و کشمیر کی مالی اور ترقیاتی صورتحال، یو ٹی اور ضلع کیپکس بجٹ کے تحت اخراجات کی پیش رفت، سیکٹورل ایلوکیشنز ، ریونیو کی پیش رفت کے تحت جاری اخراجات کی پیش رفت، مرکزی معاونت والی سکیموں( سی ایس ایس) اور سرمایہ کاری کے لئے خصوصی اِمداد (ایس اے ایس سی آئی) پروگرام کے تحت جاری اِصلاحاتی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ایس اے ایس سی آئی سکیم کے تحت دسمبر 2025 ء اور مارچ 2026 ء تک مطلوبہ اخراجات مکمل کئے جائیں تاکہ سکیم کے فوائد ضائع نہ ہوں۔ اُنہوں نے وزرأ سے کہاکہ وہ ہر دو ہفتے بعد ایس اے ایس سی آئی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیں۔میٹنگ میں ضلع وار پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور یہ پایا گیا کہ اَضلاع کو زمینی کاموں کی جلد از جلد تکمیل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ رواں مالی برس کے دوران سڑکوں کی میکڈیمائزیشن اور بلیک ٹاپنگ مکمل کی جائے تاکہ زمین پر ترقی کا نمایاں اثر نظر آئے۔ اُنہوں نے محکموں پر زور دیاکہ اِنجینئرنگ محکموں میں خالی اَسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد متاثر نہ ہو۔اُنہوں نے اصلاحات کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیاجن میں کان کنی کی رائلٹی کا ازسر نو تعین، پرانی گاڑیوں کے لئے سکریپنگ سہولیت کا قیام، روڈ سیفٹی کے لئے الیکٹرانک اَنفورسمنٹ ڈیوائسز کو فعال کرنا، اراضی ریکارڈ کی جدید کاری و ڈیجیٹائزیشن، زراعت سے منسلک اصلاحات جیسے کہ کسان رجسٹری کو اراضی ریکارڈ سے جوڑنا اور ڈیجیٹل فصل سروے، شہری اراضی اصلاحات اور مالیاتی اِصلاحات شامل ہیں تاکہ جموں و کشمیر حکومت مرکز سے ان اصلاحاتی سنگ میلوںکو حاصل کرنے کے لئے فنڈز حاصل کر سکے۔وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ سنگل نوڈل اکاؤنٹس (ایس این اے) میں موجود فنڈز کو مقررہ وقت سے پہلے خرچ کیا جائے کیوں کہ محکمے اَب ایس این اے ۔سپرش مالیاتی اِنتظامی نظام میں منتقل ہو رہے ہیں۔اُنہوںنے ترقیاتی کاموں کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور بین المحکماتی تعاون پر زور دیا تاکہ ترقیاتی کاموں کو زمینی سطح پر واضح بہتری میں تبدیل کیا جا سکے۔










