کہا، جموںوکشمیر اور مغربی بنگال کے درمیان سیاحتی باہمی فروغ کے وسیع اِمکانات موجود ہیں
کولکتہ// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کولکتہ کے بسوا بنگلہ میلہ پرانگن میں ٹریول اینڈ ٹوراِزم فیئر (ٹی ٹی ایف) کولکتہ ۔2025 کا اِفتتاح کیا جو ہندوستان کا سب سے پرانا او رمعتبر بی ٹی بی ٹریول ٹریڈ شو ہے۔وزیراعلیٰ نے سیاحتی شعبے سے وابستہ ماہرین، صنعت کاروں اور دیگر معزز مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹریول اینڈ ٹوراِزم فیئر (ٹی ٹی ایف) کولکتہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو جموں و کشمیر اور مغربی بنگال کے درمیان اِشتراک اور سیاحتی فروغ کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔اُنہوں نے زور دیا کہ یہ میلہ دونوں خطوں کے درمیان ثقافتی و اِقتصادی روابط کو مستحکم بنانے کے لئے تمام شراکت داروں کو بامعنی شراکت داری کی طرف راغب کرے گا۔

اِفتتاحی تقریب میں وزیرا علیٰ کے مشیر ناصر اَسلم وانی ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا ، ڈِپٹی سپیکر سکم قانون ساز اسمبلی راجکماری تھاپا ، ایم ایل اے (سورینگ۔چاکونگ) ادتیہ گولے ، چیئرپرسن چھتیس گڑھ ٹورازم بورڈ نیلو شرما، تھائی لینڈ کی قونصل جنرل سیری پورن تانتی پانیاتھپ اور ایسوسی ایشن فار کنزرویشن اینڈ ٹورازم (اے سی ٹی) کے کنوینر راج باسو نے بھی شرکت کی۔اِس تقریب میں مختلف ٹور اینڈ ٹریول آپریٹروں، سیاحتی اَفسران اور میڈیا نمائندوں نے بھی جوش و خروش سے شرکت کی جو مشرقی ہندوستان کی سیاحتی منڈی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اَپنے خطاب میں جموں و کشمیر کو سال بھر کے لئے موزوں اور تمام شعبوں کے لئے سیاحتی مقام کے طور پر اُبھارنے کی حکومتی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ جس میں بنیادی ڈھانچے، رسائی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر اور مغربی بنگال کے درمیان ایک گہرا ثقافتی اور جذباتی رِشتہ ہے۔ میں مغربی بنگال کے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جموں و کشمیر کی قدیم دلکشی، قدرتی خوبصورتی اور جدید سیاحتی تجربات سے لطف اندوز ہوں۔‘‘وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر اَب نہ صرف روایتی سیاحتی مقامات بلکہ آف بیٹ مقامات جیسے گریز، بنگس، بھدرواہ، سناسر، دودھ پتھری اور بسوہلی کو بھی ترقی دے رہا ہے جو منفرد تجربات فراہم کرتے ہیں۔اُنہوں نے سرحدی سیاحت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا،’’ہم اُوڑی ، کرناہ ، ٹیٹوال اور سچیت گڑھ جیسے سرحدی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں۔ تاکہ مقامی آبادی سیاحت کی قیادت میں ہونے والی ترقی سے براہِ راست مستفید ہوں۔‘‘

عمر عبداللہ نے خواتین کی قیادت میں ہوم سٹے منصوبوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کپواڑہ اور گاندربل جیسے دیہی علاقوں میں خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے اَقدامات کئے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے مہم جوئی سیاحت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی ذکر کیا جن میں سکیئنگ، ہائیکنگ، الپائن لیک مہمات اور ماؤنٹینیئرنگ شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ،’’گلمرگ، پہلگام، سری نگر اور جموں کے عالمی معیار کے گالف کورسز عالمی شائقین کو اَپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ ویڈنگ ٹورازم بھی سری نگر اور گلمرگ میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے فلمی سیاحت کے احیأ کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ فلم اِنڈسٹری بھی وادی میں واپس آ رہی ہے جو علاقائی معیشت میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’جموں و کشمیر ایک بار پھر ہندوستان کا فلمی تاج بن رہا ہے۔‘‘اُنہوں نے سرکاری سطح پر ملنے والی پذیرائی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایس کے او سی ایچ سلور ایوارڈ ہوم سٹے انیشی ایٹیو کے لئے ملا،بیسٹ رورل ہوم سٹے ایوارڈز میں کئی مقامات (جیسے کیرن، جھاروکاباغ، یوسمرگ) کو سراہا گیا،’’ٹریول فار لائف‘‘ پروگرام میں پادیرپا سیاحت کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا،آرو (پہلگام) کو ایڈونچر زُمرے میں بیسٹ ٹورازم وِلیج قرار دیا گیا۔اُنہوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کوایم آئی سی اِی ٹورازم (میٹنگوں، اِنسنٹیوز، کانفرنسوں، نمائشیں) کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’ہماری سیاحتی حکمت عملی کا مرکز دیرپایت، کمیونٹی کی شراکت اور ورثے کا تحفظ ہے۔ ہمارا مقصد جموں و کشمیر کو نہ صرف پسندیدہ مقام بنانا ہے بلکہ عالمی معیار کا ایک ذمہ دار، جامع اور تبدیلی لانے والا سیاحتی ماڈل بھی پیش کرنا ہے۔‘‘وزیراعلیٰ نے تمام مندوبین، سیاحتی سرمایہ کاروں ٹریول شراکت داروں کو جموں و کشمیر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا،’’ٹی ٹی ایف کولکتہ ہمارے لئے ایک شاندار موقعہ ہے کہ ہم مغربی بنگال کے ساتھ اَپنی ثقافتی اور اِقتصادی شراکت کو مزید مضبوط کریں۔ مشرقی ہندوستان کے سیاح ہمیشہ جموں و کشمیر کے لئے خصوصی جذبات رکھتے ہیں اور ہم انہیں نئی مہمان نوازی اور تجربات کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘ٹریول اینڈ ٹوراِزم فیئر کولکتہ 2025ء ،جو 10سے 12؍ جولائی تک جاری رہے گا، میں زائد اَز 500 نمائش کنندگان ، 25 سے زائد ہندوستانی ریاستوں اور 14 سے زائد ممالک کی نمائندگی شامل ہے اور یہ مشرقی ہندوستان کا سب سے بڑا سیاحتی نیٹ ورکنگ ایونٹ ہے۔










