وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مغربی ایشیا کے جنگ کے خاتمے کیلئے سفارت کاری اِستعمال کرنے کی اپیل کی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مغربی ایشیا کے جنگ کے خاتمے کیلئے سفارت کاری اِستعمال کرنے کی اپیل کی

کہا،یہ تنازعہ ایک اِنسانی بحران ہے جو براہ راست ہندوستان کو متاثر کر رہا ہے ،فوری اقدام کا مطالبہ کیا

جموں// وزیر اعلیٰ جموںوکشمیر عمر عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ عالمی سطح پر اہم شخصیات کے ساتھ ہندوستان کے مضبوط سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کے خاتمے اور خطے میں انسانی تکالیف کم کرنے میںمددکریں۔اُنہوںنے اِن باتوں کا اِظہا ر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ کا ذکر کیا جس نے خطے اور اس سے باہر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اِس تنازعے سے اِنسانی نقصان کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر گفتگو اکثر نظام کی تبدیلی، ہرموز کے تنگ راستے جیسے سٹریٹجک معاملات اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے گرد گھومتی رہتی ہے لیکن گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران کے لوگوں کی مسلسل تکالیف ومشکلات پر واضح توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔اُنہوں نے زور دیا کہ یہ بحران براہِ راست ہندوستان کو بھی متاثر کر رہا ہے کیوں کہ بہت سارے بھارتی شہری جن میں جموں و کشمیر کے لوگ بھی شامل ہیں، ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے ملک کے اندر اس کے اثرات جیسے پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں اورلوگوںمیں پائی جانے والی ذہنی پریشانی کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا،’’لوگوں کے نمائندوں کی حیثیت سے ہمیں اس ایوان میں اپنے خدشات اُٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہ اگرچہ اسمبلی جنگ کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن بھارت کی سفارتی حیثیت اسے امن کی طرف تعاون کرنے کیلئے منفرد مقام دیتی ہے ۔ اُنہوں نے امریکہ، اسرائیل، ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا کہ وہ تعمیری کردار اَدا کر سکتی ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم سے اپیل کی جائے کہ وہ ان تعلقات اور ذاتی سفارتی روابط کو استعمال کرتے ہوئے تنازعے کے جلد خاتمے میں مدد کریں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے سے نہ صرف متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی تکالیف کم ہوں گی بلکہ ممالک کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی راہ بھی ہموار کرے گا ۔
وزیر اعلیٰ نے اس جنگ کو’’ایران پر مسلط ایک غیر منصفانہ اور غیر قانونی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور اس تنازعے میں جانیں گنوانے والوں بشمول آیت اللہ خامنہ اِی اور ان کے ساتھیوں کے لئے اِظہارِ تعزیت کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت جنگ کے جلد از جلد خاتمے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے اور زور دیا کہ جتنی جلد یہ ختم ہوگی، اِنسانیت کے لئے اُتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔‘‘اُنہوں نے اس مسئلے کو مذہبی بجائے اِنسانی بحران قرار دیتے ہوئے کہا،’’یہ کسی ایک مذہب کا قتل نہیں ہو رہا ، یہ اِنسانیت کا قتل ہو رہا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے اعتماد ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بھارت کی طرف سے اس تنازعے کے خاتمے کے لئے کی جانے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت کرے گی۔