سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری کے احکامات تقسیم کرنے کے ایک دن بعد شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) سری نگرمیں مستحقین کو ایس آر او ۔43اور آر اے ایس۔2022 کے تحت تقرری کے احکامات حوالے کئے جس میں سوگوارکنبوںکو مدد فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کشمیر کے مختلف اَضلاع کے 54 مستفیدین کو تقرری اورریگولرائزیشن کے احکامات فراہم کئے جو ایس آر او ۔43اورآر اے ایس۔2022 دونوں کے تحت زیرِ اِلتوأ معاملات کو نمٹانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔اس تقریب میں وزیر جاوید احمد رانا، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ایم راجو،صوبائی کمشنر کشمیر اَنشل گرگ،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اَکشے لابرو، کمشنر ایس ایم سی فضل الحسیب ، سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران اور اِستفادہ کنندگان اور اُن کے اہل خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ جن کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا قلمدان بھی ہیں ،نے اَپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایس آر او ۔43 اور آر اے ایس۔2022 کے تحت تمام زیرِ اِلتوأ معاملات کو مقررہ وقت میں شفاف طریقے سے نمٹائے گی اور جہاں ضرورت ہو پالیسی کے تحت نرمی بھی فراہم کی جائے گی۔اُنہوں نے مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری کوئی احسان نہیں بلکہ ایک قائم شدہ پالیسی کے تحت ضمانت شدہ حق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مشکل ترین لمحات میں متاثرہ کنبوںکے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں اور انہیں وہ ادارہ جاتی مدد فراہم کریں جس کے وہ حقدار ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاملات کی پروسیسنگ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذِمہ داری حکومت پر ہو کہ وہ تمام رسمی کارروائیاں مکمل کرے، نہ کہ امیدواروں کو دفاتر کے چکر کاٹنے پڑیں اور ماتحت اداروں سے کاغذات کی فراہمی کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑے جس کی وجہ سے درخواست گزاروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔










