سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حلقہ بندی ترقیاتی فنڈ (سی ڈِی ایف) سکیم میں متعدد اہم اصلاحات کا اعلان کیا جس کا مقصد اسے زیادہ شفاف اور حلقوں میں مقامی ترقیاتی ضروریات کے لئے جوابدہ بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری خزاں سیشن کے وقفہ صفر کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سی ڈِی ایف کے اصول و ضوابط کو ممبرپارلیمنٹ لوکل ائیریا ڈیولپمنٹ سکیم (ایم پی ایل اے ڈِی ایس) کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ یکسانیت قائم ہو اور ارکان قانون ساز اپنے حلقوں میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی کام انجام دے سکیں۔ اُنہوں نے کہا،’’ایم پی ایل اے ڈِی ایس کے ساتھ ہم آہنگی ہمارے معزز ارکان کو ایسے منصوبے کرنے کی اجازت دے گی جو لوگوںکے لئے واضح فوائد فراہم کریںجیسا کہ پارلیمانی اراکین اَپنی سکیم کے تحت کر سکتے ہیں۔‘‘نظر ثانی شدہ رہنما خطوط کے تحت کئی اہم اصلاحات متعارف کی گئی ہیں۔ بجلی کے ترقیاتی کاموں پر پہلے عائد کردہ 50 لاکھ روپے کی حد کو واپس لے لیا گیا ہے جس سے ایم ایل اے کو بغیر کسی بالائی حد کے اس سیکٹر میں پروجیکٹوں کی سفارش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح سولر انرجی لائٹ سسٹم کی تنصیب پر 10 لاکھ روپے کی حد کو ہٹا دیا گیا ہے۔پبلک ہیلتھ اِنجینئرنگ شعبے( پی ایچ اِی)شعبے میں موبائل واٹر ٹینکروں کی خریداری اور انفرادی گھریلو کنکشنوں کی فراہمی اب ممکن ہو گئی ہے۔ نئی دفعات کے تحت سکول وینوں اور بسیں (چار اور تین پہیوں والی) خریدنے کی بھی اجازت ہے اور صحت شعبے میں ایم ایل ایز اب وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکل، الیکٹرک سکوٹیز اور دیگر معاون آلات کی خریداری کی سفارش کر سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آفاتِ سماوی سے متاثرہ کنبوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک وقتی رعایت کا اعلان کیا جس کے تحت موجودہ اور اگلے مالی برس (2025-26 اور 2026-27) میں آفات سے متاثرہ کنبوں کے گھروں کی تعمیر اور مرمت کے لئے سی ڈِی ایف سے 50 لاکھ روپے تک کے اِستعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ایک اور اہم اصلاحات میں سابقہ شق جس کے تحت ایم ایل ایز کو مالی سال میں کم از کم 80فیصد فنڈز اِستعمال کرنے تھے’اگر ایسا نہ ہوتا تو اگلے سال کی ریلیز روکی جاتی تھی‘کو حذف کیاگیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ نظرثانی شدہ رہنما خطوط سی ڈِی ایف سکیم کو ایم پی ایل اے ڈِی فنڈز ماڈل کے قریب سے ہم آہنگ کریں گے جبکہ سی ڈِی ایف کی مخصوص سرگرمیوں کو برقرار رکھا جائے گا جو مقامی ضروریات اور سماجی بہبود سے متعلق ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ زلزلے، سیلاب اور خشک سالی جیسی آفاتِ سماوی سے متاثرہ لوگوں کے لئے عارضی پناہ گاہوں کی تعمیر جیسی سرگرمیاں سی ڈِی ایف کے تحت جاری رہیںگی۔ اِسی طرح اولڈ ایج ہومز، یتیم خانوں اور پناہ گاہوں کو بنیادی اشیأ جیسے بستر، برتن، کتابیں اور یونیفارمز خریدنے کے لئے مالی مدد جو کہ 3 لاکھ روپے کی حد سے مشروط ہے ، بھی سکیم کا حصہ رہے گی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ نوجوان کلب اور کھیلوں کی تنظیمیں سرکاری طور پر تسلیم شدہ ایجنسیوں کے ذریعے کھیلوں کا سامان خریدنے کے لئے 3 لاکھ روپے تک کی گرانٹ کے اہل ہوں گی۔اُنہوں نے کہا کہ غیر متاثرہ علاقوں کے ایم ایل ایزآفاتِ سماوی جیسے سیلاب، طوفان، زلزلہ یا خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کاموں کی سفارش یا فنڈز میں 10 لاکھ روپے تک کی مدد کر سکتے ہیں، چاہے وہ متعلق ضلع ترقیاتی کمشنروںکے ذریعے ہو یاچیف منسٹرز ریلیف فنڈ میںجس میں متاثرہ علاقوں میں استعمال کی مخصوص ہدایات ہوں۔نظرثانی شدہ رہنما خطوط قبائلی اور بی پی ایل کنبوںسے تعلق رکھنے والے مکانات کی اَپ گریڈیشن کے لئے سی ڈِی ایف کے تحت 20 لاکھ روپے تک کی رقم بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ اِمداد پی ایم اے وائی کی شقوں کے مطابق رولنگ بنیادوں پر دی جائے گی اور شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے سخت جانچ اور تصدیقی اَصولوں کے تحت ہوگی۔وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا،’’یہ تبدیلیاں سی ڈِی ایف سکیم کو زیادہ جامع، ذمہ دار اور ترقی پسند بنانے کے لئے ہیں تاکہ ہمارے ایم ایل ایز براہِ راست اپنی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوں۔‘‘










