وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں شراکت داروں کے ساتھ پری بجٹ مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں شراکت داروں کے ساتھ پری بجٹ مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی

کہا،شراکت داروں کے ساتھ بات چیت سے حکومت کی بجٹ 2026-27 کیلئے ترجیحات مرتب کرنے میں مدد ملے گی

جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ سیشن سے قبل بجٹ مشاورت کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے جموں میں مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے شراکت داروںکے ساتھ ایک جامع مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی۔ اِن شعبوں میں صنعت و حرفت، سیاحت، ہوٹل و مہمان نوازی، تعلیم، امورِ نوجوانان اور زراعت شامل تھے۔ میٹنگ میں وزرأ سکینہ اِیتو، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما نے شرکت کی۔ اِس کے علاوہ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، سیاحت اور پاور ڈیولپمنٹ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، پرنسپل سیکرٹری فائنانس، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت، سیکرٹری تعلیم و اعلیٰ تعلیم، ڈِی جی بجٹ، محکمہ خزانہ کے سینئر اَفسران، محکموں کے سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔بات چیت کے دوران شراکت داروں نے اَپنے اَپنے شعبوں سے متعلق کئی مسائل اُجاگر کئے اور متعدد تجاویز پیش کیں جن کا مقصد جامع ترقی اور علاقائی ترقی کو تیز کرنا تھا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پری بجٹ مشاورتی عمل کی سنجیدگی اور مقصد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت محض رسمی نہیں بلکہ حکومت کی ترجیحات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’یہ مشاورت کئی برسوں سے جاری ہے اور آج ہم نے ایک بار پھر اسے آگے بڑھایا ہے۔ کچھ لوگ اسے معمول کی کارروائی سمجھ سکتے ہیں جس کا زمینی سطح پر کم اثر ہوتا ہے لیکن یہ تاثر حقیقت سے بعید ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پوری سینئر قیادت کی موجودگی شراکت داروں کی بات سننے کے لئے اِنتظامیہ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’اگر ہم آپ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیتے، تو ہم چیف سیکرٹری اور سینئر اَفسران سے لے کر اَپنے کابینہ کے ساتھیوں تک پوری حکومتی مشینری کو یہاں نہ لاتے۔ ہمارا مقصد آپ سے تفصیلی مشاورت کرنا اور جہاں ممکن ہو آپ کی آرا ٔکو بجٹ اور پالیسیوں میں شامل کرنا ہے۔‘‘اُنہوں نے شراکت داروں کی شمولیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی مشاورتی میٹنگ سرکاری جائزوں اور زمینی حقائق کے درمیان خلا کو پُر کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہمارے لئے دفاتر میں بیٹھ کر ہر چیز جاننا ممکن نہیں ہے۔ اکثر، جو کچھ ہم سرکاری ذرائع سے جانتے ہیں وہ حقیقت میں زمین پر ہونے والے حالات سے مختلف ہوتا ہے اور یہی بات چیت ہمیں اہم بصیرت فراہم کرتی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شرکأ کو یقین دِلایا کہ یہ بات چیت صرف سالانہ سرگرمی تک محدود نہیں رہے گی۔ اُنہوں نے کہا،’’یہ سال میں ایک بار ہونے والی ملاقات نہیں ہے جس کے بعد آپ ہمیں دوبارہ نہ دیکھیں۔ ہم اس بات چیت کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے کیوں کہ اس سے حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘اُنہوں نے اَپنے خطاب کے اختتام پر تمام شرکأ کا تعمیری شرکت پر شکریہ اَدا کیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’میں ایک بار پھر آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ ہر تجویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں تک ممکن ہوا، اسے ہمارے بجٹ فیصلوں اور پالیسی فریم ورک میں شامل کیا جائے گا۔‘‘