کہا ،جموںوکشمیر کو رِیاست بننے کا پورا حق ہے،رِیاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ اور 90حلقوں میں عوامی آواز بلند کرنے کا عزم
سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 79ویں یومِ آزادی کے موقعہ پر بخشی سٹیڈیم میں ترنگا لہرایا اور جموں و کشمیر کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد، اِنصاف اور ریاست کی آئینی حیثیت کی بحالی پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے اَپنے خطاب کا آغاز سانحہ کشتواڑ میں جاں بحق ہوئے اَفراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اِظہار کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے کہا،’’جب ہم یومِ آزادی منا رہے ہیں، تو ساتھ ہی ہم کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر سوگوار بھی ہیں۔ میں کشتواڑ کے لوگوںسے کہنا چاہتا ہوں کہ میری حکومت ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ ملا کر کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد کرے گی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اِنتظامیہ پیشگی موسمی وارننگ کے باوجود کچھ مزید کر سکتی تھی یا نہیں۔ آئندہ دنوں میں ہم کوتاہیوں کی ذمہ داری کا تعین کریں گے۔‘‘یہ بخشی سٹیڈیم سے اُن کا 11 سال بعد پہلا یومِ آزادی خطاب تھا جس میں اُنہوں نے گزشتہ دہائی میں ہونے والی بڑی سیاسی تبدیلیوں پر بات کی۔اُنہوں نے کہا،’’گیارہ سال بعد میں جموں و کشمیر کے عوام سے یہاں مخاطب ہوں۔ اُس وقت ہمارے پاس اپنی شناخت، خصوصی حیثیت، اَپنا جھنڈا اور آئین تھا۔ آج ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ حتیٰ کہ ریاست کا درجہ بھی نہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے سوال اُٹھایا کہ آخر کب تک جمہوریت کی واپسی کا اِنتظار کیا جاتا رہے گا اور مرکز سے کب کوئی ٹھوس اعلان آئے گا؟اُنہوں نے زور دے کر کہا،’’ہمیں کہا گیا تھا کہ اس سال دہلی سے کوئی بڑی خبر آئے گی۔ ہم نے اِنتظار کیا، لیکن کچھ نہ ہوا۔ سچ یہ ہے کہ وہ روشنی جو میں اکثر دیکھتا تھا، اب مدھم ہو چکی ہے ۔ مگر میں اَب بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ کیا جموں و کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ مکمل اور مساوی طور پر ضم کرنے کا بیان کردہ مقصد واقعی حاصل ہو گیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا،’’کیا واقعی ہم ملک کے برابر آ چکے ہیں؟کیا ہم واقعی بہتر ہوئے ہیں؟ اگر ہاں، تو میں خاموش رہوں گا۔ لیکن اگر نہیں، تو ہمیں بتائیں ۔ ہمارا کیا قصور تھا کہ ہم آج اس حال میں ہیں؟‘‘اُنہوں نے موجودہ نظامِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا،’’میں نہیں چاہتا کہ کوئی یونین ٹیریٹری کا وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ نظام صرف کاغذوں میں اچھا لگتا ہے، حقیقت میں ناکام ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ کی حالیہ مشاہدات اور پہلگام واقعے کو ریاستی حیثیت میں تاخیر کا بہانہ بنائے جانے پر مایوسی کا اِظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی ہی ایک مضبوط جموں و کشمیر کی بنیاد ہو سکتی ہے اور بیوروکریسی کو منتخب حکومت کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’یونین ٹیریٹری کے وزیر اعلیٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب کابینہ کے فیصلے روک دئیے جائیں، تو منتخب حکومت کیا کرے؟ ہمیں تو ایسا لگ رہا ہے جیسے گھوڑے کے اگلے دونوں پیر باندھ کر اسے دوڑنے کو کہا جا رہا ہو۔‘‘اُنہوں نے رُکاوٹوں کے باوجود گزشتہ 10 ماہ کی کارکردگی پیش کی جن میںخصوصی حیثیت اور ریاستی درجہ بحال کرنے کی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری،ریاستی درجہ بحالی کی کابینہ سے منظوری،تعلیم، صحت، سماجی بہبود، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور زراعت کے لئے بجٹ اقدامات،سردیوں میں بجلی کی تیز تر بحالی،جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی) کا دائرہ بڑھانا،’مشن یووا‘کے ذریعے 4سے 4.5 لاکھ نوجوانوں کے لئے روزگار، اَرکان قانون ساز کے ترقیاتی فنڈز میں اضافہ شامل ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ’تین سطحی احتسابی نظام‘ کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیوروکریسی منتخب حکومت اور منتخب حکومت اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی درجہ کو سیکورٹی واقعات سے جوڑنے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا،’’ہمیں پہلگام حملے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ ایک حملہ جس کی خود جموں و کشمیر کے لوگوں نے کٹھوعہ سے کپواڑہ تک مذمت کی ہے۔ ریاستی درجہ اُن لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے جو ایسے حملے کرتے ہیں۔ کیا یہ اِنصاف ہے؟‘‘اُنہوں نے کہا کہ جب ریاستی حکومتیں تھیں، تو ملی ٹنسی میں کمی آئی اور منتخب حکومت نے ثابت کیا کہ وہ امن قائم رکھ سکتی ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ہم پر ایک بار بھروسہ کریں ۔ ہم پہلے ناکام نہیں ہوئے، ان شاء اللہ آئندہ بھی ناکام نہیں ہوں گے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ریاستی درجہ کے مقدمے کی سماعت کے لئے 8 ہفتوں کی مہلت دئیے جانے کے بعد عوامی تحریک کا اعلان کیا،’’ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ آئندہ 8 ہفتوں میں ہم 90 اسمبلی حلقوں، ہر گاؤں، ہر گھر جائیں گے اور لوگوں سے دستخط اور انگوٹھے لگوائیں گے تاکہ معلوم ہو کہ کیا وہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگرلوگوںنے کہا کہ وہ موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں، تو میں شکست تسلیم کر لوں گا۔ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ ہم لاکھوں دستخط اکٹھے کریں گے اور انہیں مرکز و سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریں گے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے اَپنے خطاب کا اختتام ایک پرجوش اپیل پر کیا،’’ہمیں وہ ہندوستان حاصل کرنا ہے جس کے لئے مہاتما گاندھی، پنڈت جواہرلال نہرو، سردار پٹیل، مولانا آزاد، سبھاش چندر بوس اور بے شمار لوگوں نے قربانیاں دیں۔ ایسا ہندوستان جہاں مساوات، بھائی چارہ اور جمہوری جدوجہد میں شرکت کا حق سب کو حاصل ہو۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پریڈ کا معائینہ بھی کیا اور جموں و کشمیر پولیس، سیکورٹی فورسز، طلباء و طالبات اور پولیس بینڈز کے مارچ پاسٹ کی سلامی لی۔ کشتواڑ سانحے کے پیش نظر یومِ آزادی کی صبح کے ثقافتی پروگرام منسوخ کر دئیے گئے تھے۔










