راحت و باز آباد کاری کے اَقدامات کا اعلان کیا،متاثرہ کنبوں کو فوری اِمداد اور طویل مدتی مدد کی یقینی دہانی کی
کشتواڑ//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشتواڑ کے سیلاب سے متاثرہ چسوٹی گاؤں کا دورہ کیا تاکہ حالیہ بادل پھٹنے سے ہو ئی تباہی کا خود جائزہ لیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ کو بھارتی فوج کے اہلکاروں نے صورتحال سے متعلق جانکاری دی اور اُنہوں نے ایک ورچوئل ریئلٹی ہیڈسیٹ کے ذریعے تباہی کے پیمانے کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جو جمعہ کی شام کشتواڑ پہنچے تھے، ہفتے کی صبح سڑک کے راستے متاثرہ گاؤں روانہ ہوئے۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ مشیر ناصر اسلم وانی، چیئرپرسن ضلع ترقیاتی کونسل پوجا ٹھاکر، رُکن قانون ساز اسمبلی اندروال پیارے لال شرما، ممبر اسمبلی رام بن اَرجن سنگھ راجو، سابق وزیر سجاد احمد کچلوکے علاوہ صوبائی کمشنر جموں، اِنسپکٹر جنرل آف پولیس جموں،ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ، ایس ایس پی کشتواڑ اور دیگر اعلیٰ سول و پولیس اَفسران بھی تھے۔اُنہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر تباہی پر گہرے دکھ کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس دُکھ کی گھڑی میں لوگوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے ۔عمر عبداللہ نے یکجہتی اور فوری ریلیف کے اَقدام کے طور پر وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ سے ایکس گریشیا مالی اِمداد کا اعلان کیا۔اُنہوں نے کہا کہ جاں بحق ہو ئے اَفراد کے کنبوں کو فی کس 2 لاکھ روپے کی مالی اِمداد دِی جائے گی جب کہ شدید زخمیوں کو ایک لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو 50 ہزار روپے دئیے جائیں گے۔ اِسی طرح مکمل طور پر تباہ شدہ مکانات کے لئے ایک لاکھ روپے ، شدید متاثرہ گھروں کے لئے 50 ہزار روپے اور جزوی طور پر متاثرہ ڈھانچوں کے لئے 25 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔وزیر اعلیٰ نے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے احکامات بھی جاری کئے۔دورے کے دوران اُنہوں نے جاں بحق ہوئے اَفراد کے لواحقین اور سانحے سے متاثرہ کنبوں سے ملاقات کی مرحومین کی اَرواح کے دائمی سکون کے لئے دعائے مغفرت کی اور لوگوںکو یقین دِلایا کہ ان کی حکومت نہ صرف فوری اِمداد فراہم کرے گی بلکہ طویل مدتی بازآبادکاری بھی یقینی بنائے گی تاکہ متاثرین اَپنی زِندگی دوبارہ بسا سکیں۔










