کہا، ایس کے آئی سی سی کو ایم آئی سی اِی سیاحت کیلئے فروغ دیں اور جے کے ٹی ڈِی سی کے کمروں کی جاذبیت میں بہتری لانے پر زوردیا
سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شیرِ کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) اور جموں و کشمیر ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ٹی ڈِی سی) کے بورڈمیٹنگوں کی صدارت کی جو حال ہی میں دوبارہ تشکیل دئیے گئے ہیں جس میں وزیر اعلیٰ دونوں بورڈوں کے چیئرمین ہیں۔وزیراعلیٰ نے یہاں ایس کے آئی سی سی سری نگر میں بیک وقت دونوں بورڈ میٹنگوں کی صدارت کی۔ اُنہوں نے ایس کے آئی سی سی کے 19ویں بورڈ میٹنگ کی صدارت کی جس میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اتل ڈولو، محکمہ خزانہ و سیاحت کے اِنتظامی سیکرٹریوں، ڈِی جی پلاننگ، ڈائریکٹر ٹوراِزم، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ٹی ڈِی سی اور ڈائریکٹر ایس کے آئی سی سی نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے ایس کے آئی سی سی کو کانفرنسوں اور دیگر تقریبات کے لئے ایک اہم مرکز کے طور پر اُبھرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایس کے آئی سی سی کو اِس کی بہترین پر اِستعمال کیا جاسکے اور یہ خود اَپنی مالی ضروریات پوری کر سکے۔ اُنہوں نے ایس کے آئی سی سی اِنتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس سہولیت کی مارکیٹنگ کے لئے مؤثر حکمتِ عملی اَپنائیں تاکہ کارپوریٹ اور نجی اِداروں کو اس سہولیت سے روشناس کیا جا سکے، جو سال بھر سرگرمیوں کا مرکز بن سکتی ہے۔اُنہوںنے ایس کے آئی سی سی کے کم اِستعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ سیاحت کو ہدایت دی کہ ایس کے آئی سی سی کے لئے ایک واضح ایم آئی سی اِی برانڈ شناخت بنائی جائے۔اُنہوں نے کہا،’’کارپوریٹ اِداروں، ایونٹ پلانرز اور سرکاری ایجنسیوں کو ہدف بنانا ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بکنگز حاصل کی جا سکیں اور غیر استعمال شدہ دنوں کی تعداد کم ہو۔اس سے ایس کے آئی سی سی کو اپنی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔‘‘وزیر اعلیٰ نے واجب الادا رقوم کی وصولی پر بھی زور دیا جو مختلف محکموں، نجی اِداروں اور اَفراد کے ذمے ہیں۔ اُنہوں نے عملے کو واضح ذمہ داریاں تفویض کرنے اور بہتر نگرانی کی ہدایت دی تاکہ دستیاب اِنسانی وسائل سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔یہ ایس کے آئی سی سی بورڈ کی حالیہ تشکیلِ نو کے بعد پہلی میٹنگ تھی۔ اِس سے قبل ایس کے آئی سی سی بورڈ کی آخری میٹنگ نومبر 2020 ء میں منعقد ہوئی تھی۔ایجنڈے میں گزشتہ فیصلوںپر عمل درآمد، آڈِٹ رپورٹس، اکاؤنٹس اے جی آفس سے تطبیق، ایس کے آئی سی سی اور سنتور ہوٹل کے درمیان سہولیات کی علیحدگی کی صورتحال جسے گزشتہ برس لیلا پیلس اورجے ایس ڈبلیو ریئلٹی کو آؤٹ سورس کیا گیا تھا اورایچ آرمعاملات سنتور ہوٹل کے عملے کا دوسرے سیاحتی اِداروں میں اِنضمام شامل تھے۔اِس کے بعد وزیراعلیٰ نے جے کے ٹی ڈِی سی کے 95ویں بورڈ آف ڈائریکٹرزمیٹنگ کی صدارت کی جس میں اُنہوںنے جے کے ٹی ڈِی سی کے اثاثوں کی مرئیت میں اضافے پر زور دیا تاکہ سیاح اور عوام جے کے ٹی ڈِی سی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں قیام کو ترجیح دیں۔ اُنہوں نے خدمات میں بہتری اور سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی تاکہ مہمانوں کا تجربہ خوشگوار ہو اور وہ ہر دورے پر جے کے ٹی ڈِی سی کو ترجیح دیں۔
وزیراعلیٰ نے جے کے ٹی ڈِی سی کے اثاثوں کے غلط اِستعمال اور آمدنی کے ضیاع پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا،’’ہر جے کے ٹی ڈِی سی اَثاثے پر آزاد سمارٹ میٹر نصب کیا جائے تاکہ نگرانی کو بہتر بنا کر غلط اِستعمال روکا جا سکے۔اُنہوں نے دُور دراز سیاحتی علاقوں میں واقع ہٹوں میں رات گزارنے کی سہولیت بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے جے کے ٹی ڈِی سی کے زیادہ سے زیادہ کمروں بشمول پریمیم کمروں، کو آن لائن ٹریول ایگریگیٹرز کے ذریعے مارکیٹ کرنے کی ہدایت دی تاکہ ہوٹلوں او رہٹوں کا مکمل اِستعمال ممکن ہو سکے۔ اُنہوں نے جے کے ٹی ڈِی سی کی خدمات کی بہتر رَسائی اور مارکیٹنگ کے لئے موبائل ایپ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے جے کے ٹی ڈِی سی کے اثاثوں کا آڈِٹ کرنے کی ہدایت دی تاکہ کمیوں کا جائزہ لیا جا سکے اور بہتری لائی جا سکے۔ جے کے ٹی ڈِ ی سی کو ہدایت دی گئی کہ وہ نجی شعبے میں رائج بہترین طریقوں کو اَپنائے تاکہ کام کاج میں بہتری آئے۔جے کے ٹی ڈِی سی میٹنگ میں جن اہم نکات پر غور و خوض کیا گیا ان میں آن لائن ٹریول ایگریگیٹرز کی شمولیت، دیگر محکموں سے واجبات کی وصولی، مختلف محکموں و اِداروں کو الاٹ شدہ جے کے ٹی ڈِی سی کمروں کے کرایوں کا ازسرنو تعین، مالیات گوشواروں، ریٹائرڈ ملازمین کی واجب الادا رقوم اور گزشتہ فیصلوںپر عملدرآمد شامل تھے۔جے کے ٹی ڈِی سی بورڈ میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، محکمہ خزانہ، سیاحت، صنعتی اِنتظامی سیکرٹریوں، ڈِی جی پلاننگ، ڈائریکٹر ٹوراِزم اور منیجنگ ڈائریکٹرجے کے ٹی ڈِی سی نے شرکت کی۔










