سری نگر// جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے کہا کہ آل پارٹی اجلاس میں “مکمل ریاست کے درجہ” کی بحالی “ایجنڈے میں سرفہرست” ہوگا تاہم آزاد اس معاملے میں غیر واضح تھے کہ آیا وہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کریں گے یا نہیں۔کے این ایس کے مطابق ایک قومی اخبار “دی انڈین ایکسپریس” میں ایک انٹریو کے دوران راجیہ سبھا کے سابق حزب اختلاف کے لیڈراور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد جن کو 24 جون کو دلی میں کل جماعتی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے نے کہا کہ مزکورہ اجلاس میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی لیڈران کے ایجنڈے میں ریاست کی بحالی کا مطالبہ سرفہرہست ہے اور پارلمنٹ میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ایل جی طرز کی نہیں بلکہ مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا کہا گیا اور انہیں اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد دلی میں اس طرح کااجلاس مرکزی حکومت نے پہلی مرتبہ بلایا ہے۔آرٹیکل 370 کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب پر کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور اس پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا اور یہ جلد بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میں جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین سے مشورہ کر رہا ہوں اور اس کے بعد میں کانگریس اعلی قیادت یعنی کانگریس صدر اور سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے علاؤہ ان گانگریس لیڈران جو براہ راست یا بلواسطہ طور اس سے منسلک ہیں کی خدمات بھی حاصل کررہا ہوں اور صلاح مشورے کے بعد ایک پالیسی مرتب کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ “ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مکمل ریاست کی بحالی ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا”۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد دلی میں اس طرح کااجلاس بلایا گیا ہے جس میں تمام لیڈران ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونگے اور یہ ہمارے لئے ایک بہت اچھا موقع ہے کہ ہم آزادانہ طور پر گفتگو کرسکتے ہیں تاہم آل پارٹی میٹنگ میں غلام نبی آزاد کے علاؤہ جموں کشمیر کے کانگریس صدر غلام احمد میر کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔اس دوران ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کا جے اینڈ کے پالیسی پلاننگ گروپ کیاجلاس میں بھی پارٹی کے سینئر لیڈران اس موقف کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں اور اس پینل میں آزاد کے علاوہ منموہن سنگھ ، کرن سنگھ ، پی چدمبرم ، اے آئی سی سی انچارج رجنی پاٹل ، طارق حامد کرہ اور غلام احمد میر شامل ہیں۔ کے این ایس کے مطابق یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے سابق رہنما غلام نبی آزاد نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی پر مرکزی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اتوار کے روز پارٹی کے کمنیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ رندیپ سرجے والا نے 6 اگست 2019 کی کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کی جس میں مکمل ریاست کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کے این ایس کے مطابق جموں کشمیر کی ریاست کی بحالی کے حوالے سے سابق وزیر اعلی غلام بنی آزاد کے تاثرات ایک دن بعد آئے جب سابق مرکزی وزیر اور سی ڈبلیو سی کے ممبر چدم برم نے جموں و کشمیر میں جمہوری حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا تاہم کانگریس نے اس سے پہلے بھی اپنی ایک قرار داد میں جموں و کشمیر کے ریاستی مقام کو ختم کرنے پر کہا کہ جموں وکشمیر نے ایک ریاست کی حیثیت سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور کسی بھی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی حیثیت کو تبدیل کرے یا اسے تقسیم کرے یا اس کے کسی بھی حصے کو کسی بھی خطے کو کم کرے۔










