modi3

وزیر اعظم نے دیا’پریکشا پر چرچہ‘ کے دوران تعلیم، زندگی اور قوم سازی پر زور

فرنٹیئر ناگالینڈ ٹیریٹوریل اتھارٹی کے قیام کا تاریخی معاہدہ شمال مشرق میں امن و ترقی کی جانب تاریخی قدم// نریندر مودی

سرینگر// یو این ایس // وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز ایک جانب جہاں طلبہ کو تعلیم، زندگی اور مستقبل سے متعلق رہنمائی فراہم کی، وہیں دوسری جانب شمال مشرقی ہندوستان میں امن، شمولیاتی ترقی اور خوشحالی کی سمت ایک تاریخی پیش رفت کا خیر مقدم بھی کیا۔ ’پریکشا پہ چرچا 2026‘ کے نویں ایڈیشن سے خطاب اور فرنٹیئر ناگالینڈ ٹیریٹوریل اتھارٹی کے قیام سے متعلق معاہدے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی اور ملک کے ہر خطے کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔یو این ایس کے مطابق پریکشا پہ چرچا 2026 کے دوران وزیر اعظم نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ تعلیم کو بوجھ نہ بنائیں اور اپنی توجہ صرف امتحانی نمبروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ زندگی کو بہتر بنانے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور عملی مہارتیں سیکھنے پر بھی توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ آدھے دل سے حاصل کی گئی تعلیم زندگی میں کامیابی نہیں دلا سکتی اور تعلیم میں مکمل شمولیت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔وزیر اعظم نے طلبہ کو سستے انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ محض اس لیے انٹرنیٹ یا موبائل گیمنگ پر وقت ضائع نہ کیا جائے کہ ڈیٹا سستا ہے۔انہوں نے کہا کہ تفریح کے نام پر گیمنگ میں حد سے زیادہ ملوث ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خصوصاً جب اسے پیسے کمانے یا جوا کھیلنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آن لائن جوا ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کے خلاف قانون بنایا گیا ہے، تاہم گیمنگ کو اگر درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ ذہنی چستی، رفتار اور خود ترقی کے لیے ایک مہارت بھی بن سکتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر طالب علم کا سیکھنے اور کام کرنے کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ کچھ طلبہ صبح کے وقت بہتر مطالعہ کرتے ہیں جبکہ کچھ رات میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے فطری انداز پر یقین رکھیں، ساتھ ہی مفید مشوروں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔انہوں نے اساتذہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ استاد کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ طلبہ کی رفتار سے ایک قدم آگے رہیں تاکہ بہتر رہنمائی ممکن ہو سکے۔مطالعہ، آرام، مہارتوں اور مشاغل کے درمیان توازن کو انہوں نے ترقی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ زندگی کی مہارتیں اور پیشہ ورانہ مہارتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی کے بجائے مستقبل پر توجہ دیتے ہیں اور طلبہ کو بھی یہی پیغام دیا کہ وہ ماضی کی ناکامیوں میں الجھنے کے بجائے حال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔تقریب کے آغاز میں وزیر اعظم نے طلبہ کا روایتی آسامیز گاموسا پیش کر کے استقبال کیا۔ یہ پروگرام پارلیمنٹ ہاؤس کے بال یوگی آڈیٹوریم میں بھی براہِ راست دکھایا گیا۔واضح رہے کہ 2018 میں شروع ہونے والا پریکشا پہ چرچا آج ملک کے سب سے بڑے تعلیمی مکالماتی پروگراموں میں شامل ہو چکا ہے، اور نویں ایڈیشن میں 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشن کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔اسی روز وزیر اعظم نریندر مودی نے فرنٹیئر ناگالینڈ ٹیریٹوریل اتھارٹی کے قیام سے متعلق سہ فریقی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ شمال مشرقی ہندوستان میں امن، ترقی اور شمولیاتی خوشحالی کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ معاہدہ خاص طور پر مشرقی ناگالینڈ کی ترقی کے سفر کو نئی رفتار دے گا اور عوام کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔یہ سہ فریقی معاہدہ مرکزی حکومت، ناگالینڈ حکومت اور ایسٹرن ناگالینڈ پیپلز آرگنائزیشن کے درمیان طے پایا، جس پر ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔سرکاری بیان کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ناگالینڈ کے چھ اضلاع — توانسانگ، مون، کیفیئر، لانگلینگ، نوکلاک اور شاماتور — کے لیے فرنٹیئر ناگالینڈ ٹیریٹوریل اتھارٹی قائم کی جائے گی، جسے 46 مختلف شعبوں میں اختیارات منتقل کیے جائیں گے۔اس اقدام سے مقامی سطح پر بہتر حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور عوامی شمولیت کو فروغ ملے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی کے یہ دونوں اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ایک جانب نوجوان نسل کی فکری، تعلیمی اور اخلاقی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے دور دراز اور حساس خطوں میں امن، خود اختیاری اور شمولیاتی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی قدم اٹھا رہی ہے۔