ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کے پیش نظر سرحدوں پر الر ٹ جاری ، فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایت
سرینگر// وزیر اعظم نریندرمودی 20فروری کو دورے جموں کشمیر پر وارد ہو رہے ہیں جس کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ادھر بارڈر سیکورٹی فورس اور جموں و کشمیر پولیس نے ضلع سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سرحد پار سرنگ کی تلاش کی ہے جبکہ سرحدوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے جموں کشمیر کے پیش نظر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے جموں و کشمیر میں سیکورٹی کا سخت بند وبست کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر کی شاہراہوں اور دیگر لنک روڈس پر جہاں سیکورٹی فورسز کے عملے کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے وہیں سرینگرجموں شاہراہ کے دیگر علاقوں میں چیک پوائنٹس بڑھا دئے گئے ہیں۔ معلوم ہو ا ہے کہ جموں کشمیر بھر میں عمومی طور پر اور خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وزیر اعظم اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں سیکورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ادھر سرحدوں پر بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ بی ایس ایف اور جموں کشمیر پولیس نے سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سرحد پار سرنگ کی تلاش شروع کردی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں ڈورون سرگرمیوں کے چلتے سرحدوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑھ سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی فورسزکو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سرحدوں پر فورسز کو الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 20 فروری کو 3,161 کروڑ روپے کے 209 پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کیلئے جموں کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ جموں کے قلب میں مولانا آزاد اسٹیڈیم میں ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کریں گے۔مودی کے دورے کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کے ایک حصے کے طور پر، عہدیداروں نے کہا، بی ایس ایف اور پولیس نے سانبہ ضلع کے رام گڑھ سیکٹر میں مشترکہ دو گھنٹے طویل سرنگ مخالف آپریشن کیا۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن صبح شروع ہوا اور تلاشی ٹیموں کو زمین پر کوئی بھی مشکوک چیز نہیں ملی۔عہدیداروں نے کہا کہ آئی بی کی حفاظت کرنے والے بی ایس ایف کے دستوں اور سرحدی چوکیوں پر نظر رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ چوکس رکھا گیا ہے،حکام نے بتایا کہ آئی بی کے ساتھ سرحدی علاقوں کے علاوہ، لائن آف کنٹرول اور اندرونی علاقوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے انتظامات کو بڑھا دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کی طرف سے حملہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ اور امن برقرار رکھنے کے لیے حساس علاقوں میں چیکنگ کی۔










