وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت شہری علاقوں میں 31 ہزار مکانات مکمل

وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت شہری علاقوں میں 31 ہزار مکانات مکمل

5,02,930 مستحق خاندان شامل، زمین اور مالی امداد کی فراہمی کیلئے اقدامات تیز// حکومت

سرینگر/یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں میں 31 ہزار سے زائد مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیہی سیکٹر میں 99 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔یہ تفصیلات قانون ساز اسمبلی میں ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں پیش کی گئیں، جہاں سست رفتاری اور رہائشی سہولیات کی کمی سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، پی ایم اے وائی اربن مشن 1.0 کے تحت مجموعی طور پر 39,153 مکانات منظور کیے گئے تھے، جن میں سے 31,173 مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران مستحقین کو مختلف مراحل پر 54,231.37 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔اسی طرح کریڈٹ لنکڈ سبسڈی اسکیم کے تحت 3,432 مستحقین کو 1,082.36 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی، تاکہ وہ اپنے مکانات کی تعمیر یا خریداری مکمل کر سکیں۔پی ایم اے وائی اربن 2.0 کے تحت حکومت کو 2.12 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 18,630 کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 2,641 کیسز زیر عمل ہیں۔ اب تک 2,120 مکانات کو منظوری دی جا چکی ہے، جن کیلئے 5,300 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔افورڈیبل ہاؤسنگ ان پارٹنرشپ (AHP) کے تحت 1,272 فلیٹس کی منظوری دی گئی ہے، جن میں جموں کے بھلوال اور روپ نگر جبکہ ادھم پور کے چکھر سندلی کے منصوبے شامل ہیں۔دیہی علاقوں میں پی ایم اے وائی گرامین کے تحت 3.35 لاکھ مکانات منظور کیے گئے، جن میں سے 3.23 لاکھ مکمل ہو چکے ہیں، جو کہ 99 فیصد تکمیل کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران بڑی تعداد میں مکانات کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔پی ایم اے وائی گرامین 2.0 کے تحت 5.02 لاکھ سے زائد گھرانوں کا سروے کیا گیا، جن میں سے 1,02,674 کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ باقی کیسز کی جانچ جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ برفباری، دشوار گزار علاقے اور موسمی حالات کی وجہ سے تصدیقی عمل میں تاخیر ہوئی۔حکومت نے واضح کیا کہ اسکیم کے تحت مکان کی منظوری کیلئے زمین کی قانونی ملکیت لازمی شرط ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے۔ تاہم جہاں ممکن ہو، ایسے معاملات کو محکمہ مال کے ساتھ ہم آہنگی میں دیکھا جاتا ہے۔حکام کے مطابق عمل درآمد کو تیز کرنے کیلئے خصوصی ویریفکیشن ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ مستحقین کو بروقت فائدہ پہنچایا جا سکے۔حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ رہائشی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بیک لاگ کو کم کرنے اور منظوریاں جلد مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ معاشی طور پر کمزور طبقات کی رہائشی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق حکومت نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا،گرامین کے تحت کیے گئے تازہ سروے میں یونین ٹیریٹری بھر میں پانچ لاکھ سے زائد بے گھر اور بے زمین خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ آواس+ 2024 سروے کے تحت پی ایم اے وائی-جی 2.0 کے حصے کے طور پر 5,02,930 مستحق خاندانوں کی شناخت کی گئی ہے۔حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بے گھر خاندانوں اور ان مستحقین کی ضلع وار تفصیلات، جنہیں مکان کی تعمیر کے لیے زمین یا مالی امداد فراہم کی گئی ہے، مرتب کر کے ضمیموں کی صورت میں پیش کی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل اسکیم کے مختلف مراحل کے دوران رہ جانے والے خاندانوں کی نشاندہی کے لیے ایک تازہ تصدیقی عمل بھی انجام دیا گیا ہے۔مزید کہا گیا کہ دائرہ کار کو وسیع بنانے کے لیے متعلقہ حکام ریونیو محکمہ کے ساتھ تال میل میں اہل بے زمین مستحقین کو زمین فراہم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں، جو اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق مکمل جانچ کے بعد عمل میں لائے جا رہے ہیں۔حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اسکیم کے مؤثر نفاذ اور رہائشی یونٹس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے یونین ٹیریٹری، ضلع اور بلاک سطح پر باقاعدہ نگرانی اور جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام اہل مستحقین کو رہائش فراہم کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دیہی ترقی کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق ٹائم لائنز پر عمل کیا جا رہا ہے۔