وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بروقت اِنصاف کو یقینی بنانے اور عدالتوں میں زِیراِلتوأ کم کرنے کیلئے ٹیلی۔ لاسروس کو مضبوط بنانے پر زور دیا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بروقت اِنصاف کو یقینی بنانے اور عدالتوں میں زِیراِلتوأ کم کرنے کیلئے ٹیلی۔ لاسروس کو مضبوط بنانے پر زور دیا

دیہی او رپسماندہ علاقوں کے لئے پروبونو قانونی مدد اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اِنصاف تک رَسائی پردیا زور

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اِنصاف تک رَسائی کو بڑھانے اور عدالتوں کے بوجھ کو کم کرنے میں بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے ٹیلی لأاَقدام کے اہم کردار کو اُجاگر کیا۔وزیر اعلیٰ نے آج یہاں شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی) میں مرکزی وزارت قانون و اِنصاف کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیلی لأ کے علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت اور وزارت ِانصاف ساتھ مل کر اجتماعی کوششوں سے اِس سکیم کو مزید تقویت ملے گی۔اُنہوں نے کہا،’’مجھے اُمید ہے کہ اس ورکشاپ کے بعد ہم مرکزی حکومت اور وزارتِ انصاف کے ساتھ مل کر دیکھیں گے کہ اس سکیم کو کس طرح مزید مضبوط اور وسعت دی جا سکتی ہے۔ ہم مزید وکلأ پرو بونو کوجوڑیں گے تاکہ ہر شخص بروقت اور مناسب مقام پر اِنصاف حاصل کر سکے۔‘‘ورکشاپ ٹیلی لأ اَقدام کے تحت منعقد کی گئی، جو’’ڈیزائننگ انوویٹو سولیوشنز فار ہولسٹک ایکسس ٹو جسٹس (ڈِی آئی ایس ایچ اے)‘‘کے تحت ایک مرکزی شعبہ جاتی سکیم ہے جسے مرکزی وزارتِ قانون و اِنصاف کے محکمہ اِنصاف کے ذریعے عملایا جا رہا ہے۔اس تقریب سے مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے قانون و اِنصاف ارجن رام میگھوال نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی، سیکرٹری وزارت قانون و اِنصاف نیرج ورما اور دیگر سینئر اَفسران و شراکت داروں نے بھی شر کت کی۔
وزیرا علیٰ نے ٹیلی لأ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اَقدام تنازعات کو عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’صرف وہ مقدمات عدالت میں آنے چاہئیں جہاں عدالتی سماعت ضروری ہو۔ ٹیلی لأ قانون کی وضاحت، عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے اور ثالثی کو فروغ دینے میں مدد دیتا ہے۔ اگر مسائل عدالت پہنچنے سے پہلے حل ہو جائیں تو عدالتوں پر دباؤ کم ہو جائے گا۔‘‘وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جہاں شہری علاقوں میں وکلأ تک رسائی آسان ہو سکتی ہے وہاں دُور دراز علاقوں کے لوگ اکثر اپنے حقوق اور قانونی حل سے بے خبر رہتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’دیہی اور پسماندہ علاقوں میں وکیل تک پہنچنا آسان نہیں۔ ٹیلی لأ ان لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے قانونی مدد سے جوڑتا ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بالخصوص جموںوکشمیر کے دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لئے اِنصاف تک سستی ، مؤثر اور بروقت رَسائی کو یقینی بنانے میں ٹیکنالوجی سے چلنے والی قانونی خدمات کے تبدیلی بخش کردار پر زو ردیا۔اُنہوںنے اِس بات کا اعادہ کیا کہ آئین کے تحت ہر شہری کو اِنصاف کا حق حاصل ہے اوراِنصاف میں تاخیرانصاف کے انکار کے مترادف ہے۔ اگر انصاف حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگے تو یہ نہ ملنے کے برابر ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ملک بھر کی عدالتیں مقدمات میں اضافے اوراِس کے بوجھ کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ عدالتوں اور حکومت کی کوششوں کے باوجود اس چیلنج کا حل متعدد سطحی حکمت عملی کا متقاضی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’عدالتوں کے بوجھ کو کم کرنے کے صرف تین طریقے ہیں نئے آنے والے مقدمات جلد نمٹائے جائیں، زیر اِلتوأ مقدمات کم کئے جائیں اور سب سے اہم بات یہ کہ غیر ضروری نئے مقدمات عدالتوں تک نہ پہنچیں۔‘‘وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ٹیلی لأسکیم نے جموں و کشمیر میں نمایاں پیمانے پر وسعت اِختیار کی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’شروع میں صرف دو اضلاع شامل تھے، اَب یہ 20 اضلاع تک پھیل چکی ہے۔ 4,000 سے زیادہ پنچایات کا احاطہ کیا جا رہا ہے اور 7.5 لاکھ سے زیادہ قانونی مشورے دئیے جا چکے ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا،’’صرف یہ اعداد و شمار کافی نہیں ہیں جب تک یہ نہ جان لیں کہ یہ کافی ہیں یا ہم مزید بہتری لا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ورکشاپ منعقد کی گئی تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور سکیم دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کتنی کامیاب رہی ہے۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ دیگر جگہوں پر اپنائی گئی بہترین پریکٹسز سے سیکھنا اور انہیں مقامی سطح پر نافذ کرنا اہم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ٹیلی لأ کے نفاذ میں کامن سروس سینٹروں( سی ایس سیز) کے کردار کو بھی سراہااور کہا کہ اِس اَقدام نے ان سینٹروں کے لئے نئے کام کے مواقع پیدا کئے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ میں شکر گزار ہوں کہ ٹیلی لأ کے ذریعے کامن سروس سینٹروں کو زیادہ کام مل رہا ہے۔اُنہوںنے یقین ظاہر کیا کہ اس طرح کے مباحثوں کے ذریعے ٹیلی لا کو مضبوط کرنے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی اور عدالتوں کا بوجھ کم ہو گا۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’اگر ہم اس ورکشاپ کے ذریعے ٹیلی لأ کو مضبوط کریں تو ہم زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں اور عدالتوں پر دباؤ کم کر سکتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ ورکشاپ اِنصاف کی فراہمی کی جانب ایک کامیاب قدم ہے۔ورکشاپ کا اِنعقاد محکمہ اِنصاف کی جاری کوششوں سے کیا گیا تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے فراہم کی جانے والی قانونی خدمات کے ذریعے اِنصاف تک رَسائی کو مضبوط کیا جا سکے اور اہم شراکت داروں کے درمیان باخبر مذاکرات کو فروغ دیا جا سکے۔