editorial

واٹس ایپ امیجز کا خطرناک کھیل:ایک نظر انداز شدہ سائبر جنگ

جس طرح ذاتی زندگی کے کئی پہلو اب موبائل فون کی اسکرین تک محدود ہو چکے ہیں، اسی طرح سائبر مجرموں نے بھی اپنی چالوں کا مرکز وہیں بنا لیا ہے۔ ایک عام سی تصویر، جو کسی انجان نمبر سے آپ کے واٹس ایپ چیٹ باکس میں آتی ہے، بظاہر بے ضرر دکھائی دیتی ہے — لیکن اس کے پیچھے چھپا خطرہ آپ کی مالی اور ذاتی سلامتی کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔درحقیقت، ایسی تصویریں اسپائی ویئر یا میلویئر سے متاثر ہو سکتی ہیں، جنہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد صارف کا فون خود ایک ہتھیار بن جاتا ہے — اس کے علم کے بغیر۔ ان تصاویر کے ذریعے ہیکرز نہ صرف فون میں موجود تصاویر اور ڈیٹا چُرا سکتے ہیں بلکہ کی لاگرز کے ذریعے آپ کے بینکنگ پاس ورڈز اور حساس معلومات تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔اور یہ خطرہ صرف آپ تک محدود نہیں رہتا۔ یہی واٹس ایپ امیج جب آپ کسی قریبی عزیز، فیملی گروپ یا دوستوں کو فارورڈ کرتے ہیں — خواہ وہ ایک “مضحکہ خیز میم” ہی کیوں نہ ہو — تو آپ انجانے میں اس خطرناک سافٹ ویئر کا کیریئر بن جاتے ہیں۔ ہر شیئر کے ساتھ یہ زہریلا کوڈ نئے فونز تک پہنچتا ہے، اور ہر نیا ڈاؤن لوڈ ایک نیا شکار بناتا ہے۔یہ وہ جدید سوشل انجینئرنگ ہے جسے سائبر مجرم انتہائی چالاکی سے استعمال کر رہے ہیں۔ جیسا کہ AdvaRisk کے چیف ڈیٹا سائنٹسٹ، پرناو پاٹل بتاتے ہیں، “آج کی دنیا میں، جہاں میسجنگ ایپس ہر جگہ موجود ہیں، اسکامرز صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے انتہائی ذہین طریقے اپنا رہے ہیں۔” واٹس ایپ امیج ڈاؤن لوڈ اسکینڈل اسی نئی نسل کی دھوکہ دہی کی ایک واضح مثال ہے۔یہاں ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر بینکنگ ایپس آج بھی صارفین کو آن اسکرین کی بورڈ استعمال کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ اس کا سبب یہی کی لاگرز ہوتے ہیں، جو فون کے ورچوئل کی بورڈز پر ٹائپ کی گئی ہر چیز کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ تاہم، آن اسکرین کی بورڈ اس تکنیک کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ہے، کیونکہ کی لاگرز اسے پڑھنے میں ناکام رہتے ہیں۔اس تناظر میں، اب یہ صارف کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل تحفظ کو سنجیدگی سے لے۔ سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ واٹس ایپ سمیت تمام میسجنگ ایپس میں میڈیا فائلز کا آٹو ڈاؤن لوڈ فیچر فوری طور پر بند کیا جائے۔