عوام کی بے قدری اور محکمہ پی ایچ کی غفلت شعاری کا نتیجہ
سرینگر / / وادی کے بیشترعلاقوں میں واٹر سپلائی اسکیم ہونے کے باوجود بھی لوگ پانی کے بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ چونکہ محکمہ پی ایچ ای کی غفلت شعاری اور لاپرواہی سے اگر چہ ان جگہوں پرواٹر سپلائی سکیم بُری طرح متاثر ہوئی ہے قلت آب کی صورتحال ہر سو پیدا ہوئی ہے اور لوگ پانی کی عدم دستیابی کو لے کر متعلقہ حکام اور سرکار کے خلاف احتجاج کرتے ہیں لیکن بیشتر جگہوں پر حکام کی عدم توجہی سے مسئلہ حل نہیں ہو پاتا ہے۔ متعلقہ محکمہ کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس گناہ عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں کیونکہ لوگوں نے پانی جو قدرت کی جانب سے ایک انمول نعمت ہے کی بے قدری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیںچھوڑی ہے ۔ماضی میں یعنی دو تین دہائی قبل یہاں کے ندی، نالے ،دریا اور چشمے آب حیات کی مانند رواں دواں ہوتے تھے لیکن دانستہ طور لوگوں نے اس قدرتی نعمت کو زوال پذیر کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کی۔ کیونکہ فلش پوائنٹ تعمیر کئے گئے اگر چہ موجودہ زمانے میں اس کی کافی ضرورت تھی لیکن لوگوں نے آبی ذخائر ووسائل کے کناروں پر فلش پوائنٹوں کو تعمیر کیا ۔یا ان فلش پوائنٹوں سے پانی کی نکاسی کو بر اہ راست ان ہی ندی نالوں میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ جس کے نتیجے میں یہ نعمت عظمیٰ لوگوں سے چھین لیا گیا کیونکہ اس غلطی کی وجہ سے ہماری بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا خشک ہوگئے یا ان میں بہنے والا پانی گند آلودہ ہوگیا جو ناقابل استعمال بنا ہوا ہے ۔کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کا معاملہ کافی سنجیدہ نوعیت کا ہے اگر آج بھی اس پرانفرادی اور اجتماعی طور غور نہ کیاجائے تو آنے والے وقت میں یہ عام لوگوں کی زندگی کے لئے ایک بحرانی کیفیت پیدا کرے گی۔ کیونکہ گندہ پانی کے استعمال سے لوگ مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ محکمہ پی ایچ ای سرے سے ہی صاف اور فلٹرکئے ہوئے پانی کی سپلائی کرنے میں ناکام ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ محکمہ پی ایچ کی جانب سے قائم کی گئی واٹر ٹینکوں میں جانور اور پرندے گھس جاتے ہیں جن کو مرنے کے بعد بھی نکالا نہیں جاتاہے ۔ جس سے ان ٹینکوں میں موجود پانی جو لوگوں کو سپلائی کیاجارہا ہے بیماریوں کا موجب بنتا ہے ۔لوگوں کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ سرکاری طور اس معاملے کی طرف توجہ مرکوز کی جائے اور لوگ بھی انفراد ی اور اجتماعی طور متحرک ہوکر ندی نالوں ، دریائوں اورچشموں کی صفائی کرکے گندگی ڈالنے سے گریز کریںاور فلش پوائنٹوں اور باتھ رومز کے گندہ پانی کو ان آبی ذرائع میں ڈالنے سے اجتناب کریں اور واٹر سپلائی اسکیم کو مستحکم و مضبوط بنانے کے لئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں تاکہ پانی کا یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ہر جگہ پر حل ہوسکے اور لوگ بھی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔










