بنگلورو ۔ ٹوکیو اولمپک میں کرئیر کا آغاز کرنے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم کی مڈفیلڈر ہریانہ کی نشا نے کہا ہے کہ ہاکی کھیلنے کے لئے ان کے والد کی حمیات ہی انہیں ٹوکیو اولمپک تک لائی ہے ۔ نشا رانی کی قیادت والی 16 رکنی ہندوستانی خواتین ٹیم کی ان آٹھ کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو اولمپک کھیلوں 2020 میں ڈیبیو کرنے والی ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ سونی پت سے اپنے ہاکی کے سفر کاآغاز کرنے والی نشا کے والد جو ایک ریٹیل اسٹور میں درزی کاکام کرتے ہیں انہوں نے نشاکے ہندوستان کے لئے ہاکی کھیلنے کے ان کے خواب کوپورا کرنے میں اہم کرداراداکیا ہے ۔اس کے بارے میں نشا نے کہا میرے والد نے ہمیشہ مجھے ہندوستان کے لئے کھیلتے ہوئے دیکھنے کا خواب دیکھا ہے حالانکہ انہوں نے میرے اہل خانہ کے لئے دن میں تین وقت کا کھانا یقینی بنانے کے لئے شب وروز محنت کی لیکن انہوں نے مجھے ہاکی کھیلنے سے کبھی مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کسی طرح کچھ روپے بچا کر رکھے ، جس سے مجھے ایک ٹورنمنٹ کے لئے سفر کرنے میں مدد ملی۔ میرے اہل خانہ کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں کوئی کھیل کھیل سکوں لیکن میں نے رکاوٹوں کا سامناکرنے کا تہیہ کرلیا اورمیرے والد کی بغیر کسی شرط کی حمایت نے مجھے کھیلنے کا موقع دیا۔ اب ہاکی کے ذریعہ مجھے یقین ہے کہ میں اپنے اہل کانہ کی معاشی طورسے حمایت کرنے اورانہیں غریبی سے نکالنے کی اہل ہوجاوں گی۔قابل ذکر ہے کہ رانی کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم اولمپک میں اپنے پہلے گروپ میچ میں دنیا کی نمبرایک ٹیم نیدرلینڈ کے مدمقابل ہوگی۔ اس پرنشا نے کہا کہ 16 رکنی ٹیم اسپیڈورک پر توجہ مرکوزکررہی ہے جو یقینی بنائے گا کہ وہ صحیح وقت پر چوٹی پر پہنچے ۔ انہوں نے کہا ٹوکیو کے لئے روانہ ہونے سے پہلے محض ایک ہفتہ باقی ہے ۔ ہم سبھی ضرورت کے حساب سے سخت محنت کررہے ہیں اورٹیم میں ہم سبھی ہر سیشن میں بہتر مظاہرہ کرنے کے لئے ایک دوسرے پر زوردے رہے ہیں۔
مجھے ایسے نظام کا حصہ بن کر خوشی ہورہی ہے ، جہاں پورا کوچنگ اسٹاف بھی یہ دیکھنے کے لئے تیار ہے کہ ہم صحیح وقت پر چوٹی پر پہنچیں۔ ٹیم کے اندرکافی جوش وخروش ہے اورہم سبھی عالمی چمپئن نیدرلینڈ کے خلاف اپنے پہلے میچ کا بے صبری سے انتظارکررہے ہیں۔










