karbala

واقعہ کر بلا ایک ایسا واقعہ ہے جسے ہزاروں سال گزر گئے

لیکن آج بھی زندہ و جاوید ہے

قیصر محمود عراقی

تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام ایک سخت جان دین و مذہب ہے ، اسی لئے باطل نے ماضی میں بھی اسلام کو پامال کر نے اور حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی پوری کوشش کی ، مگر ہر بار اس کے خاکستر سے ایک ایسا پیکر نمودار ہوا جو ایک نئی روح کے ساتھ باطل سے ٹکراتا رہا اور اُسے زیر کر تا رہا ۔ دنیا میں کئی انقلاب آئے لیکن آج کتابوں میں ان کا صرف نام باقی ہے جبکہ عملی طور پر آثا رنہیں ملتے ۔ واقعہ کر بلا ایک ایسا واقعہ ہے جسے ہزاروں سال گرز گئے لیکن آج بھی زندہ جاوید ہے ، دشمن نے بڑی کوشش کی کہ لوگ کر بلابھول جائیں لیکن یہ ایک زندہ معجزہ ہے کہ عشق حسین ؒ میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔ یہ وہ محرم ہے جس کو حق و باطل کی پہچان اور معرکے کا مہینہ کہا گیا ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں خدا کی دین کی نصرت کا سبق دیا گیا ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جو بدعتوں اور طاغوت سے جہاد کا درس دیتا ہے ۔ کر بلا کا واقعہ مسلمانوں کو جبر و استبدا د کے خلاف صف آرا ہو نے کا ایک نیا جذبہ اور تازہ ولولہ بخشتی ہے ۔ کر بلا میں شہید ہو نے والاے شہدا کی زندگی میں ہمیں علم و عمل کاحسین امتزاج ملتا ہے ، ان کی شہادت یہ سبق دیتی ہے کہ ہمارے قول و فعل میں کبھی تضاد نہیں ہو نا چاہیئے واقعہ کر بلا یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں نیک نیتی اور خلوص سے حق کی مدافعت اور اس کے فروغ کے لئے ایک نصب العین متعین کر لینا چاہیئے ، پھر اس کے حصول کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کر نا چاہیئے۔واقعہ کر بلا ہر پہلو سے کوئی نہ کوئی سبق دیتا نظر آتا ہے ْ لیکن شاید ہم اس پر عمل در آمد کر نے میں دریغ کر رہے ہیں ،  وقت  کے تقاضوں کو پورا کر تے کرتے ہم بہت آگے آ گئے ہیں اور مقصدِ کر بلا کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔ 
آج بھی کر بلا ئیں سجی ہو ئی ہیں ، آج بھی شام کے باز ار کھلے ہو ئے ہیں ،ا ٓج بھی دمشق کے دربار لگے ہو ئے ہیں ، محل سرائیں ، قلعے ، اونچے اونچے منارے قائم ہیں ، حسین ؒ  بھی ہیں اوریزید بھی ہے، آج بھی حسین یزید کے نرغے میں ہیں ، آج بھی حسین نہتے اور اُدھر شمشیریں ہیں، یزید کا گھیرا آج بھی مضبوط ہے ، مظلوم کر بلا اپنے گھرانے اور جان نشاروں کے ساتھ حصار میں ہیں ، آج بھی فرات لبالب بھرا ہوا ہے ، زور شورے عین سامنے بہہ رہا ہے اور حسینی پیاسے ہیں اور فرات دیکھ رہے ہیں ، آج بھی فرات پر پہرہ ہے ، حسینی بھوکے اور اُدھر انواع و اقسام کے کھانے پینے ہیں ، وہی رزق کی تو ہین کے مناظر ہیں، بچے کھچے کھانے کُتے اور بلیاں کھا رہے ہیں اور کھانے کے بعد سرور و کیف کے دور چل رہے ہیں ، اصول ، ضابطے ، قانو ن سب کتابوں میں بند ہیں اور منہ سے نکلی بات ہی قانون ہے ، آج بھی کالی صدیوں کی بیداد جا ری ہے ، قتل کر کے مجرم چھوٹ جاتے ہیں ، آج بھی دولت معیار ہے ، اونچے محلوں میں لہو کے چراغ جل رہے ہیں اور غریبوں کا پرُسان حال کوئی نہیں ،اسلام کے نام پر قتل ہو رہے ہیں ، گر دنیں کاٹی جا رہی ہیں ، عبادت خانیں تباہ کی جا رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، درس گاہیں مٹائی جا رہی ہیں ،تمام پیر ،  فقیر، خانقاہوں کے مالک ، سجادہ نشیں ، گدی نشیں ، دعائیں اور وظیفے کر نے والے ، سفید براک و باریش سب کے سب ہمیشہ کی طرح دربا کے ساتھ ہو تے ہیں ، دربار میں علماء مثائخ مجتمع ہو تے ہیں اور خیر سے سارے کے سارے مکتب فکر فقہ عقیدہ کے علما ع مشائخ خشوع و خضوع کے ساتھ شریک ہو تے ہیں ، بڑے بڑے تاجر ، زمیندار، سردار، خان سب کے سب ہمیشہ دربار کے ساتھ ہو تے ہیں تا کہ ان کے کاروبار ، ناجائز بینک بیلنس ، زمینیں ، کھیت کھلیان ، باغات محفوظ رہیں اور ان کا ظلم قائم رہے ۔ وہ غریبوں ، کسانوں، مزدوروں سے جبری مشقت لیتے رہیں ، جو تاجر دو نمبری کا موں سے دولت کماتے ہیں، ان کے دسترخوانوں پر عمدہ کھانے پینے چلتے رہیں اور ان کے ملازمین بھوکے مرتے رہیں ، 
قارئین حضرات , کر بلا کیا درس دیتا ہے اور ہم کس پر عمل کر رہے ہیں ؟ کیا امام حسین ؒ نے اسی لئے اپنا پورا خاندان راہ خدا میں لٹا دیا؟ کیا اپنے ناناجان کے دین کی آبیاری اسی لئے کی کہ اب ہم صرف واقعہ کر بلا کو ایک رسم کے تحت گذاریں ؟ محرم کا چاند نمودار ہوا تو ہم صرف طرح طرح کی خرافات میں ملوث ہو جائیں ، دوچار مجالس سجا لیں اور واقعہ شہادت سن کر دو آنسو بہا لیں اور مجلس سے باہر آتے ہی اپنی مسکراہٹوں اور ہنسی سے لطف اندوز ہو جائیں ۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم مقصد حسین کو نظر انداز کر کے طرح طرح کی رسومات کی بجا آوری کو فرض سمجھتے ہیں ۔ آج ہمیں یزید سے اس لئے نفرت ہے کہ اس نے آل رسول کو شہید کیا لیکن امام حسین کو نظر انداز کر کے طرح طرح کی رسومات کی بجا آوری کو فرض سمجھتے ہیں ، آج ہمیں یزید سے اس لئے نفرت ہے کہ اس نے آل رسول کو شہید کیا لیکن امام حسین کو یزید سے کیوں نفرت تھی ، ہمیں نہیں معلوم ۔ ہماری نفرت اور امام حسین ؒ کی نفرت کی دلیل میں بہت فرق ہے امام حسین کو اس لئے نفرت تھی کہ یزید اللہ کے دین کو پامال کر رہا تھا ، وہ اللہ کے قانون کی حد توڑ رہا تھا ، وہ اللہ کے دین کی بے حرمتی کر رہا تھا ۔ اگر آج ہماری نفرت کی دلیل بھی وہی ہو تی جو اما م حسین ؒ کی تھی تو ہمیں ہر دور کے یزید سے نفرت ہو تی ۔ آج کا یزید وہ ہے دین الہیٰ کے اصولوں کو پامال کر رہا ہے ، حدود کو پامال کر رہا ہے ، رسول و آل رسول ﷺ کے دین کو بگاڑ کر پیش کر رہا ہے ۔ چاہے وہ دانشور طبقہ اور امیر وقت ہو جو خلیفہ بن کر بدعت پھیلا رہا ہے چاہے وہ مذہبی علماو مشائخ ہوں جو کر بلا کے واقعات کو تو ڑ مروڑ کر پیش کر کے امت کو گمراہ کر رہے ہیں ، بدعت کو ختم کر نے کے بجائے بدعت کو ایجاد کر رہے ہیں ، آج ہمیں جہاد ایسے ہی یزیدیوں کے خلاف کر نا ہے اور مقصد کر بلا کو سمجھ کر صرف اور صرف اپنے کردار کو بنانے کی سنوارنے کی کوشش کر نی ہے ۔
محرم آگیا ہے اور محرم یو نہی آتا رہے گا مگر اب وقت ، حالات اور واقعات تقاضا کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو بتائیں کہ امام حسین ؒ نے میدان کر بلا میں شہیدہو کر ہمیں کیا درس دیا ہے اس درس کوعام کر نا ہو گا ، اپنے اندر بیداری لانی ہو گی ۔ آخر ہم کب بیدار ہو نگے ، وقت آ چکا ہے حسیںؒ کو تفریق و تقسیم کے لئے نہیں صرف جمع کے لئے پیش کیا جا ئے ۔ حسین ؒ کے پیغام کو لیکر چلنے والے ہر مذہب وملت میں گذرے ہیں ، جنہوں نے سچ کو اختیار کیا ، دربار کو للککارا ، دنیا کو ٹھکرایا، زہر کا پیالا پیا یا سولی پر چڑھ گئے ۔ آج بھی فرات لبالب بھرا اور شور مچاتا بہہ رہا ہے مگر سچ اختیار کر نے والوں کے لئے فرات پر پہرے دار کھڑے ہیں ۔ یہ جھوٹ اور سچ کا کھیل؛ ہمیشہ رہے گا مگر اصول فروش اور اصول پرست بھی ہمیشہ آمنے سامنے رہینگے ۔

کریگ اسٹریٹ ، کمرہٹی ، کولکاتا ۔۵۸