ماہی گیر طبقہ کو سرکاری اسکیموں کے ساتھ جوڑنے کیلئے محکمہ فشریز اقدام اٹھائے
سرینگر // وادی کشمیرمیں مچھلیوںکی صنعت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ روز گار کا ایک اہم وسیلہ ہے اور محکمہ فشریز کے پاس اس کی ترویج کیلئے بہت سی اسکیمیں موجود ہیں لیکن ان اسکیموں کو زمینی سطح پر بروئے کار نہیں لایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں ماہر گیر طبقہ نظر انداز ہورہا ہے اور یہ صنعت زوال پذیر ہورہی ہے ۔اس صنعت کو بچانے کیلئے ان اسکیموں کو متعارف کرانا اور لوگوں کو ان اسکیموں کے بارے میں پوری جانکاری فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق کئی دہائی قبل مذکورہ طبقہ اس کام پر ہی اپنے اہل وعیال کی بہتر پرورش کرتے تھے لیکن چند برسوں سے مچھلیوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقعہ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ان کا روز گار بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔اس سلسلے میں ماہی گیرطبقہ سے وابستہ افراد نے نمائندے کو بتایا کہ محکمہ فشریز کے پاس مچھلیوں کی پیدوار بڑھانے کیلئے بہت سی اسکیمیں موجود ہیں لیکن ان کو متعارف کرنے میں لیت ولعل سے کام لیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دریائوں میں مچھلیاں بہت تعداد میں پل رہی تھیں لیکن وہ بھی نابود ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کو اندازہ ہے کہ مچھلیوں کی پیدوار کے لئے اگر صحیح معنوں میں اسکیمیں متعارف کی جائیں گی اور لوگوں کو جانکاری فراہم کی جائے تو مچھلیوں کے پیداوار میں کافی اضافہ ہوگا اور یہ بے روزگاروں کیلئے روزگار کا ایک بہترین وسیلہ ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ہذا دریائوں اور دیگر آبی ذخائر میں مچھلیوں کی پیدوار بڑھانے کیلئے مختلف قسم کے ہائی بریڈ بیچ ڈالتے تھے لیکن اب یہاں وہ سلسلہ بھی ختم کیا جاچکا ہے جس سے یہ صنعت متاثر ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ کے حوالے سے موجود اسکیموں کو باضابطہ طور متعارف کیا جائے اور لوگوں کو بھر پورجانکاری فراہم کی جائے تاکہ یہ صنعت ماہی گیروں اور دوسرے بے روزگار نوجوان کیلئے روزگار کا باعث بنے گی










