dooran

وادی کے ہسپتالوں میں گرمی کا معقول انتظام نہ ہونے پر ڈاک نے کیا تشویش کااظہار

سرینگر//وادی میں موسم سرماء شروع ہونے کے ساتھ ہی ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے گرمی انتظام رکھیںکیوںکہ ہسپتالوں میں مریضوں کو سردی سے مشکلات درپیش آرہی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ابھی تک ہیٹنگ سسٹم چالو نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو سردی سے پریشانہ ہوتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہڑکوں کو جمادینے والی سردی سے مریض مزید مشکلات کاسامنا کررہے ہیں کیوں کہ مریضوں کو جتنی بہتر گرمی مئیسر ہوگی ان کی صحتیابی کی امیدیں زیادہ پیدا ہوجاتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہسپتالوں میں گرمی کا انتظام نہ ہونے کے نتیجے میں مریضوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔خاص کر دل کے دورہ پڑنے والے اور سٹروک کے مریضوں کو سردی سے موت ہونے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ استھما اور چھاتی کے مریضوں کیلئے بھی ہسپتالوں میں سردی سے جان کا خطرہ رہتا ہے ۔ اس دوران ڈاک کے وائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر محمد اقبال نے کہاکہ ہسپتالوں میں گرمی کا معقول نظام نہ ہونے کے نتیجے میںحاملہ خواتین کے بطن میں پل رہے بچے کو بھی خطرہ رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ’’بچے اور بوڑھے خاص طور پر ہائپوتھرمیا کا شکار ہوتے ہیں جو سانس اور دل کی خرابی اور یہاں تک کہ موت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘بیان میں ڈاک جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے شدید سردی میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے خاص طور پر رات کے اوقات میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ترجمان ڈاک ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ مریضوں کی تکالیف سے بے حس نظر آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “وہ اپنے آرام دہ گرم چیمبروں میں لطف اندوز ہوتے ہیں اور لوگوں کے مصائب کے بارے میں انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی ۔