سورج ڈھلنے کے بعد نصف سے زیادہ وادی گھپ اندھیرے میں ڈھوب جاتی ہے ،عوام کوگوناں گوں مشکلات کاسامنا ،انتظامیہ خاموش
سرینگر/اے پی آئی// برقی رو کی دستیابی کے سلسلے میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن مکمل طور پرناکام اور انتظامیہ کی جانب سے سردیوں کے ایام میں لوگوں کوبہتر سہولیات فراہم کرنے کے تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں جسپر عوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ نے سرینگر میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران رواں برس کے سردیوں کے ایام میں لوگوں کوبہترسہولیات فراہم کرنے کاوعدہ کیاتھاتاہم نچلی سطح پرسرکار کے احکامات کی تکمیل نہیں ہوپارہی ہے جس کے نتیجے میں عوام مشکلات کاسامناکررہاہیں ۔سردیوں کے ایام میں وادی کے طول ارض میں لوگ شدید مشکلات سے دو چا رہیں ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق شہنشاہی زمستان چلہ کلاں اور سردیوں کے ایام میں جموں وکشمیرکے لوگوں کوبالعموم او روادی کشمیرمیں بنیادی سہولیات کے حوالے سے لوگوں کوراحت پہنچانے کے دعوے زمینی سطح پرکھوکھلے اور بے بنیاد ثابت ہوتے جارہے ہے ۔وادی کے طول ارض میں بجلی کی عدم دستیابی نے سنگین رُخ اختیا رکیاہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق گرمائی دارالخلافہ سرینگر دیگرشہروں قصبوں کے چند علاقوں میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے عوام کو برقی رو شڈول کے مطابق فراہم کی جاتی ہے او ردعویٰ کیاجارہاہے کہ سال 2025کے مقابلے میں سال 2026کے سردیوں کے ایام میں عوام کوبہتر سہولیات فراہم کرنے میں کوئی بھی کسرباقی نہیں چھوڑی جارہی ہے ۔وادی کے صارفین کے مطابق کٹوتی کی آڑ میں مسلسل برقی رو منقطع کی جاتی ہے اور چند منٹوں کے لئے بجلی فیس وصول کرنے کی خاطر برقی رو بحال کرکے شڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ۔عوامی حلقوں کے مطابق جن علاقوں میں لفٹ واٹرسپلائی اسکیمیںلوگوں کوپینے کاپانی فراہم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے وہاں سورج ڈھلنے کے بعد بجلی منقطع ہوجاتی ہے پائیپیں منجمندہوکر جب کبھی برقی رو بحال ہوجاتی ہے پانی کھینچنے میں ناکام ثابت ہوتی ہے اورآبادی کابڑا حصہ پینے کے پانی سے محروم ہوگئے ہے ۔ایسے علاقوں کے لوگ آلودہ پانی استعمال کرنے پرمجبور ہیں جسکے نتیجے میں کئی طرح کی بیماریاں پھر پھوٹ پڑی ہے او ریہ سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی دراز ہوتاجارہاہے ۔وادی کے طول ارض میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مطابق اگرچہ بجلی شڈول کے مطابق فراہم کرنے کے دعوے کئے جارہے ہے تاہم صارفین اور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے ا س بیان کوبے معنیٰ اور حقیقت سے بعید قرار دے رہے ہیں ا ورلوگوں کومانناہے کہ بجلی کہی بھی دستیاب نہیں ہے جس کے نتیجے میں لوگ پریشانیوں کاسامناکررہے ہیں۔لوگوں کایہ بھی کہناہے کہ کئی مریض آکسیجن کی بناء پرہی زندہ ہے تاہم بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی آکسیجن کی مشینیں کام نہیں کررہی ہے اوراس دوران ایسے مریضوں کوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑرہاہے ۔لوگوں کے مطابق بجلی فیس میں جہاں اضافہ کیاگیاہے وہاں باقائدگی کے ساتھ بجلی فراہم کرنے کے لیئے اقدامات نہ اٹھانا حیران کن ہے۔ صارفین نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیاکہ وہ ا س محکمہ کے انچارج وزیربھی ہیں۔ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کواس بات پر مجبور کیاجائے کہ لوگوں کوشڈول کے مطابق برقی رو فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔لوگوں کے مطابق جھاڑے کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے گرمائی دالخلافہ میں اعلیٰ حکام کے ساتھ دو با رمیٹنگیں منعقد کی اور ان میٹنگوں کے دوران یہ فیصلہ لیا گیاکہ سردیوں کے ایام میں بہترسہولیا ت فراہم کرنے کی ہرممکن اقدامات اٹھائے جائے گے تاہم زمینی سطح پر عوام کو گوناں گوں مصائب ومشکلات سے گزرناپڑرہاہیں جسکاسرکار سنجیدہ نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ با ربار حکومت کواس بات سے آگاہ کیاجارہاہے کہ بجلی فیس میںاضافہ کن وجوہات کی بناء پرہوا برقی رو فراہم کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ بیکار ٹرانسفار مروں کی مرمت او رانہیں دوبارہ اپنی جگہوں پرنصب کرنے کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ عوام پینے کے پانی کی قلت سے دو چا رہیں اور ا س سلسلے میںجل شکتی کی خاموشی کیاحیران کن نہیں ۔عوامی نے حکومت پرزور دیاکہ لوگوں کو بہترسہولیا ت فراہم کرنے انتظامیہ کوجواب دہ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے تاکہ سردیوں کے ان ایام میں لوگوں کومذیدمشکلوں کاسامناناکرناپڑیں ۔










