وادی کے سب سے بڑے زچہ بچہ اسپتال ’’ لل دید ‘‘ میں سال رفتہ میں مریضوں کے رش میں 6فیصدی اضافہ

او پی ڈی میںروزانہ 600مریضوں کا معائنہ اور قریب 100بچوں کی روزانہ بنیادوں پر اسپتال میں جنم ہوتا ہے

سرینگر // وادی کے سب سے بڑے زچہ بچہ اسپتال ’’ لل دید ‘‘ میں سال رفتہ میں مریضوں کے رش میں 6فیصدی کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اسپتال کے او پی ڈی میںروزانہ 600مریضوں کا معائنہ ہوتا ہے اور قریب 100بچوں کی روزانہ بنیادوں پر اسپتال میں جنم ہوتا ہے ۔ ادھر میڈکل سپرا نڈٹینڈنٹ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں معیاری اور جامع زچگی کی دیکھ بھال فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کے سب سے بڑے اسپتال ’’ لل دید ‘‘ میں سال رفتہ کے دوران مریضوں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سال رفتہ میں معمول سے 6فیصدی زیادہ مریضو ں کا رش اسپتال میں ریکارڈ کیا گیا ۔ اعداد و شمار کے مطابق اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی ) نے سال 2022 میں 194,583 حاملہ خواتین کا علاج کیا، جبکہ سال 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 206,025 ہو گئی۔ یہ او پی ڈی مریضوں کے رش میں چھ فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔تاہم، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسپتال کے ان پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ ( آئی پی ڈی ٰ ) میں زیر علاج مریضوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، سال 2022 میں 36,751 اور 2023 میں 36,753 مریض تھے۔اعداد و شمار نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ او پی ڈی میں مریضوں کا اوسط یومیہ رشن سال 2022 میں 540 سے بڑھ کر سال 2023 میں 572 ہو گیا، جبکہ آئی پی ڈی میں مریضوں کا اوسط بہاؤ یومیہ 102 پر مستقل رہا۔اسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 600 مریض روزانہ او پی ڈی میں علاج کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں روزانہ تقریباً 100 بچوں کی پیدائش کا انتظام کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا تقریباً 35 فیصد ڈیلیوری نارمل ہوتی ہے، جب کہ 65 فیصد میں سیزرین سیکشن شامل ہوتے ہیں۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لل دید اسپتال ڈاکٹر مظفر جان نے کہا کہ اسپتال معیاری اور جامع زچگی کی دیکھ بھال فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ڈاکٹر جان نے کہا’’وادی میں زچگی کی صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ادارے کے طور پر، ہسپتال اعلیٰ توقعات پر پورا اترنے اور معیاری علاج فراہم کرنے کیلئے سہولیات کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر جان نے کہا’’یہاں اوسطاً 100 نئی پیدائشیں ہوتی ہیں اور بیڈ پر قبضے کی شرح ہسپتال میں 60 سے 70 فیصدہے ۔