صوفی پورہ میں سڑک کی حالت انتہائی خستہ

وادی کے اطراف واکناف میں سڑکوں کی خستہ حالت سے عوام کوپریشانیوں کاسامنا

سرینگر / /وادی کے اطراف واکناف میں سڑکوں کی خستہ حالت نے سنگین رُخ اختیار کیاہے جہاں تک کہ شہرسرینگر کی اندرونی علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالت اب وبال جان بنتی جارہی ہے آر اینڈ بی محکمہ کی جانب سے سڑکوں کی مرمت میگڈم بچھانے یاسڑکوں کی مرمت کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر نے 75وی آزادی کی سال گرہ کے موقعے پرجواعداد شمار سڑکوں کے حوالے سے ظاہر کئے زمینی سطح کے ساتھ وہ میل نہیں کھاپارہے ہے ۔سڑکوں کی خستہ حالت کی وجہ سے وادی کشمیرمیں کاروبار متاثر ہورہاہے جبکہ لوگوں کاایک جگہ سے دوسری جگہ آناجانا بھی مشکل بن رہاہے ۔سردیاں شروع ہونے میں اب چندماہ باقی رہ گئے اور اس مدت کے دوران سڑکوں کی خستہ حالت کودور کرنے کے لئے اگر اقدامات اٹھائے گئے تو جھاڑے کے موسم میں لوگو ںکا ایک جگہ سے دوسری جگہ آناجانا ممکن ہوگا اور اگر ایسانہ کیاگیاتو بیشتر علاقوں میں مسافر بردار گاڑیوں کی جوسروس چل رہی ہے وہ بھی متاثر ہوگی ۔اے پی آ ئی نمائندوں کے جانب سے جواطلاعات وادی کے اطراف واکناف سے مل رہی ہے ان کے مطابق اگر یہ کہاجائے کہ وادی کشمیرمیں 60%سڑکیں خستہ ہوچکی ہے تو بیجا نہ ہوگا آر اینڈ بی محکمہ کی جانب سے رواں برس کے ابتداء سے ہی سڑکوں کی مرمت میگڈم بچھانے کشادگی کرنے کے سلسلے میں اگر چہ اقدامات اٹھانا شروع کئے تھے تاہم موسم میں بہتری آنے کے بعد ٓار اینڈبی محکمہ نے سڑکوں پرمیگڈم بچھانے کی آڑ میں پیوندکاری کاسلسلہ شروع کیااور وادی کے چندبڑے شہروں قصبوں اور دیہات میں سڑکوں پرمیگڈم بچھاکر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ محکمہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرلی ہے حالانکہ وادی کشمیرمیں 60%سڑکیں خستہ اور انتہائی خستہ ہے یہاں تک کہ کئی علاقوں میں سڑکوں کانام ونشان ہی مٹ گیاہے پچھلے کئی دنوں سے شمالی وسطی اور جنوبی کشمیرکے بیشتر علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں کی خستہ حالت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور اس بات کابھی انکشاف کیاکہ میرا قصبہ میرا فخر اور آؤں چلوں گاؤں کے اور کے پروگرام کے انعقاد کے دوران صوبائی انتظامیہ نے بجلی ،پانی، سڑک، صحت ،تعلیم کے ضمن میں جودعوے اور وعدے کئے تھے وہ زمینی سطح پر دکھائی نہیں دیرہے ہے اور نہ ہی صو بائی انتظامیہ کی جانب سے انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق آزادی کی 75وی سال گرہ کے موقے پرجموںو کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہانے سڑکوں کی تعمیر کشادگی مرمت اور میگڈم بچھانے کے ضمن میں جواعداد شمار ظاہر کئے زمینی سطح کے ساتھ کوئی اعداد شمار میل نہیں کھارہے ہے یہاں تک کہ شہرسرینگر کی اندرونی سڑکوں کاحال اس قدر خستہ ہوچکاہے کہ اب یہ سڑکیں لوگوں کے لئے وبال جان ثابت ہوتی جارہی ہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ جھاڑے کاموسم شروع ہونے سے پہلے اگر سرکار نے سڑکوں کی خستہ حالت کودور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے تو سردیوں کے ایام میں لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ آناجانا ممکن تو ہوگا اگر ایسا نہیں کیاگیاتو لوگوں کی نقل وحرکت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ بیشتر علاقوں کیلئے جومسافر بردار گاڑیوں کی سروس چل رہی ہے وہ بھی متاثر ہوگی او رسینکڑوں علاقوں کے لوگوں کاتحاصیل اور ضلع صد رمقامات کے ساتھ رابطہ بھی مشکل ہوگا۔عوامی حلقوں کے مطابق ایسے درجنوں پل بھی ہے جن کی وجہ سے ضلع و تحاصیل صدر مقامات کے ساتھ زمینی رابطہ قائم نہیں ہوپارہاہے سال 2020میں بھی سرکار نے پلوں کی تعمیرکا کام مکمل کرنے کایقین دلایاتھا تا ہم ایسا نہیں ہوا اور رواں برس کے 8ماہ اب گزر نے کے قریب ہے اس مدت کے دوران بھی ان پلوں کی تعمیر کاکام اگر مکمل نہیں ہوا جسکی وجہ سے ایسے علاقوں کازمینی رابطہ ہنوز منقطع ہے ۔