وادی کشمیر کا ہر شعبہ گذشتہ کئی برسوں سے متاثر ،کاروباراورصنعتیں زوال پذیر

وادی کشمیر کا ہر شعبہ گذشتہ کئی برسوں سے متاثر ،کاروباراورصنعتیں زوال پذیر

ٹیکسز کی بھر مار ،بجلی وپانی کے فیس اورمصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ،حکام سے توجہ دینے پر زور

سرینگر //وادی کشمیر جواقتصادی طور کافی خود کفیل تھا اوریہاں تجارتی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ تاجروں اور کاروباریوں کو کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی لیکن اچانک حالت نے کروٹ بدل لی اورکوروناوائرس میں لاک ڈاون سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور میوہ صنعت سمیت دیگر کئی صنعتیں جو یہاں کی مالی بحالی کے اہم وسیلے تھے یک دم زوال پذیر ہوگئیں اورکئی برسوں کے مسلسل اقتصادی بحران کی وجہ سے ہر کوئی انسان کافی پریشانیوں میں مبتلا ہوا ہے کیونکہ بہتر اقتصادیات سے معمولات زندگی بہتر طریقے سے نبھائی جاسکتی ہے لیکن جب مالی حالت ابتر ہو تو انسان کی زندگی ان کیلئے اجیرن بن جاتی ہے ۔غریب ہو یا امیر ۔روز مرہ کی زندگی گذارنے کیلئے ہرایک کو محنت شاقہ سے کام کرنا پڑتا ہے اور آجکل لوگ پہلے سے زیادہ کام کرنے میں مصروف ہیں ۔لیکن مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے ۔لوگوں کے آمدنی کے ذرایعے محدود ہیں لیکن خرچات کافی ہیں ۔یہاں اگر چہ وبائی بیماری اورزمینی صورتحال کی وجہ سے تین برسوں سے حالات خراب ہیں۔ کوروناوائرس کے پھیلائو میں کمی ہونے کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آنے کی امید ہے ۔لیکن اس کے بعد بھی دکاندار دکانات کی دہلیز پر خریداروں کی تلاش میں چشم براہ ہوتے ہیں ۔بازاروں میں کافی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن دکانوں سے خریداری کرنے کا جیسے رواج ہی ختم ہوا ۔اگر چہ خریدار دکانوں میں جاتے بھی ہیں لیکن صرف چکائو دھکائو کیلئے ہی جاتے رہتے ہیں ۔خریدوفروخت کے معاملات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ گذشتہ کئی برسوں سے یہاں کی روایتی صنعتیں بشمول میوہ صنعت،بادام اور اخروٹ زوال پذیر ہے اور یہ بھی اقتصادی بدحالی کا ایک سبب ہے کیونکہ پیسوں کی گردش رُک گئی ہے ۔کشمیر پریس سروس کے نمائندے نے اقتصادی بدحالی کے بنیادی محرکات اور کاروبار سے متعلق موجودہ صورتحال کے حوالے سے دکانداروں اور کئی کاروباری افراد سے گفت شنید کی تو دکانداروں نے کہا کہ ان کا کاروبار بالکل ٹھپ ہے ۔انہوں نے کہا کہ دکانیں کھلی ہیں ۔لوگوں کی گہماگہمی بھی برابر ہے لیکن خریداری کہیں نہیں ہے۔کیونکہ لوگوں کے پاس خریداری کی سکت ہی باقی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب دکاندارماضی کی طرح زیادہ منافع کے بجائے 10فیصدی یا اس سے کم بھی منافع پر ہی اکتفا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خریدار چیزوں کو خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا کہ دکانداروں ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ اب نو نقد نو تیرہ ادھار کا معاملہ ہے ۔ادھار دینے کی بات ہی ختم ہوئی ہے۔ ۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور کاروبار بُری طرح متاثر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں اور اقتصادی بدحالی نے ہر طرف اپنا جال بچھایا ہے تو دوسری طرف سرکاری سطح پر ٹیکسز کی بھرمار ہے ۔بجلی،پانی کے فیس میں غیر معمولی اضافہ اور مصنوعات یعنی پیٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جبکہ بہت ساری چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بناء پر آئے روز یہاں کے لوگ اقتصادی بدحالی کے شکار ہوگئے ہیں ۔انہوں نے مطالبات کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکار کو کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا چاہئے جس سے کاروباری سرگرمیاں دوبارہ پٹری پر آسکیں گے اور اقتصادی بھالی بھی یقینی بن سکے گئی ۔