سرینگر سمیت کئی اضلاع میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ
سرینگر/// وادی کشمیر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت معمول سے کئی درجے بلند ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سرینگر سمیت جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی اضلاع میں سورج پوری آب و تاب سے چمکتا رہا، اور دن بھر شدید گرمی کا احساس برقرار رہا۔محکمہ موسمیات کے مطابق، سرینگرمیں آج دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.8ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے معمول سے تقریباً 4 ڈگری زیادہ ہے۔ دوپہر کے اوقات میں شہر میں سورج کی تمازت اور خشک ہوائیں عام شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنیں۔دوسری جانب، ادھمپور اور جموں میں گرمی کی شدت مزید خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44.6 ڈگری سیلسیس جبکہ ادھمپور میں 41.2ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ ان علاقوں میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک افسر نے بتایا کہ، “وادی میں اس وقت مغربی ہواؤں کا دباؤ کم ہے، اور ہوا کی نمی کی مقدار بھی کم ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے گرمی کا احساس دوگنا ہو رہا ہے۔ اگلے چند روز تک موسم میں کسی خاص تبدیلی کی امید نہیں۔محکمہ صحت اور موسمیات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، ہلکے کپڑے پہنیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور دھوپ میں کام کرنے سے اجتناب کریں۔طبی ماہرین کے مطابق، بڑھتی ہوئی گرمی سے بزرگ شہری، بچے اور مریض سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ گرمی کے دوران سر چکرانا، تھکن، قے یا بے ہوشی کی علامات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔وادی میں جاری گرمی کی شدت سے زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں پانی کی قلت اور دھوپ کی شدت نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، اور اگر بارش نہ ہوئی تو یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہو سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 3 سے 4 دنوں تک وادی میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان ہے، البتہ کہیں کہیں شام کے وقت ہلکی پھوار یا گرج چمک کے امکانات موجود ہیں۔










