صوبہ کشمیرکے بڑے شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی حالت دن بدن بدسے بدتر ہوتی جاہی ہے او راس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سرکار کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ کیاجارہاہے عملی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے کوئی تدبیر عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔وادی میں مسافر بردار گاڑیوں کے لئے بیشتر شہروں میں سٹاف مقرر نہیں کئے گئے ہے اور نہ ہی چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کے لئے اسٹینڈوں کاقیام عمل میں لایاگیاہے اور جن جن علاقوں میںاسٹینڈقائم کئے گئے ہے وہاں ان اسٹینڈوں کوبہت کم استعمال کیاجارہاہے اور اکثر وبیشر مسافر بردار گاڑیاں چوراہوں پرہی مسافروں کوسوار بھی کرتے ہے اور گاڑیوں سے اتارتے بھی ہے ۔صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے شاہراہوں کے دونوں طرف جوفٹ پاتھ ہے ان پرقبضہ جمایاگیاہے جسکے نتیجے میں عام لوگوں کوچلنے کے لئے شاہراہوں کاہی استعمال کرنا پڑتاہے ۔شہرسرینگر کے صرف چندعلاقوں میں پارکنگ کاانتظام ہے 80%شہرسرینگر کے دوسرے علاقوں میں پارکنگ کاکوئی انتظام نہیں ہے یہی حال دوسرے شہروں قصبوں کاہے ۔نجی گاڑی مالکان اپنی گاڑیوں کوسڑک پرپارک کرنے کے بعدکام کے لئے چلے جاتے ہے اور وہ ایساکرنے کے لئے مجبور بھی ہے بڑے شہروں قصبوں میں پارکنگ کاموثرانتظام نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی مالکان کوغیرقانونی کارروائی عمل میں لانے پرمجبور ہونا پڑرہاہے ۔ٹرانسپورٹ پالسی اختیار کرنے کے بارے میں کئی برسوں سے صرف زبانی خرچ کیاجارہاہے ۔ٹریفک جام کن وجوہا ت کی بناء پربڑے شہروں قصبوں میں ہورہاہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ محرکات کیاہے ٹریفک جام کے متعلقہ اداروں کواس بارے میں پوری طرح سے جانکاری ہے مجال ہے کہ وہ ان خامیوں کوتاہیوں کودور کرنے کی کوشش کرے جن کی وجہ سے عام لوگوں کوپریشانیوں کاسامناکرنا پڑتاہے ۔شہرسرینگر میں ایک مسافر بردار گاڑی کسی بھی جگہ رُک کرمسافروں کواتارتی بھی ہے اور سوار بھی کرتی ہے اور بڑے شہروں قصبوں میںجو مسافر بردار گاڑیاں سڑکوں پردوڑتی ہے وہ اس وقت تک ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں نکلنے کوتیار ہوتی ہے جب تک نہ ان میںآور لوڈ ہو جائے ۔آور لوڈنگ بڑے شہروں قصبوں میں شجرممنوعہ نہیں آور ٹیکنگ پربھی کوئی روک نہیں ہے ۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے او ریہ بات بھی اظہر شمش ہے کہ سات دہائیاں پہلے جوشاہراہیں ہمارے پاس تھی ان میں صرف سات سے آٹھ فیصدی کااضافہ ہوا ہے ۔چھ دہائیاں پہلے وادی کشمیرمیں چند سو گاڑیاں تھی اور 2022کے اکتوبر کے آخر تک جواعداد شمار سامنے آئے ان کے مطابق صرف وادی کشمیرمیں ہی چالیس لاکھ سے زیادہ گاڑیاں، موٹرسائیکل ،آٹورکھشا، سکوٹیاں لوگوں کے پا س ہے اور سڑکیں وہی ہے جو پہلے موجود ہوا کرتی تھی ۔لوگوں کی سوچ تو بدل رہی ہے دور جدیدکی سہولیا ت کے لئے ہم ایک دوسرے پرسبقت لیناچاہتے ہے تاہم ٹرانسپورٹ کے حوالے سے جوہم خود قانون کی خلاف عرزی کرتے ہے وہ حیران کن ہے اور سرکار بھی ہماری غیرسنجیدگی کے باعث اپنی غلطیوں کوتاہئیوں کودور کرنے کی کوشش کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ چندمنٹوں کاسفر وادی کشمیرمیںگھنٹوں میں تبدیل ہوگیاہے اور ٹرانسپورٹ کے لئے جوقوائد وضوابط تھے ان پرکئی بھی عمل نہیں ہوپارہاہے ہم 21 وی دور پرگزرنے کی بات کرتے ہے مریخ پرگھربنانے کی سوچتے ہے لیکن زمین پرقانون کی عمل درآمد کرنے کے لئے تیار نہیں ۔










