Fake doctors are rampant in Kashmir Valley

وادی کشمیر میں نقلی ڈاکٹروں کی بھر مار

وادی کشمیر میں بالعموم اور شہر سرینگر میں باالخصوص نقلی ڈاکٹروں کی بھر مار ہے جو پیسے کمانے کی لالچ میں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کئی نجی کلینکوں پر بغیر جانچ پڑتال کے ڈاکٹروں کو علاج و معالجہ کیلئے رکھا جارہا ہے ۔ جس پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے نجی کلینکوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کررہے ڈاکٹروں کی اسناد کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے ۔ لوگوں نے کہاہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے ۔ وادی کشمیر میں نقلی ڈاکٹروں کی بھر مار ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ وادی کے مختلف اضلاع میں بالعموم اور شہر سرینگر میں بالخصوص نقلی ڈاکٹر نجی کلینکوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج ومعالجہ کے نام پر لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ باوثو ق ذرائع نے بتایا ہے کہ نجی کلینکوں پرڈاکٹروں کو بلا کسی پوچھ تاچھ اور اسناد کی جانچ پڑتال کے بغیر ہی علاج کرنے کیلئے رکھا جاتا ہے کیوں کہ نجی کلینکوں کے مالکان اپنی پسند کی کمپنیوں کی ادویات زیادہ سے زیادہ فروخت کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ذرائع نے بتایا کہ ایسے ڈاکٹروں ، کلینکوں اور دواساز کمپنیوں کے مابین گٹھ جوڑ ہے اور ایسے ڈاکٹروں کے ہاتھوں مریضوں کیلئے مہنگی اور غیر ضروری ادویات تفویض کرکے اپنا کاروبار چلارہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ سرینگر کے کئی ایسے کلینکوں پر سالوں سے مریضوں کا علاج و معالجہ کررہے ہیں اور ان کی اسناد کی جانچ کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جارہی ہے ۔ اسی طرح وادی کے دیگر اضلاع میں بھی جن میں سرحدی ضلع کپوارہ، بارہمولہ ، اننت ناگ اور دیگر اضلاع سے بھی اسی طرح کی شکایات موصول ہورہی ہے کہ نجی کلینکوں پر نقلی ڈاکٹر لوگوں کا علاج کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں عوامی حلقوں نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے ایل جی انتظامیہ خاص کر سیکریٹری ہیلتھ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے نجی کلینکوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کررہے ڈاکٹروں کی اسناد کی جانچ کیلئے اقدامات اُٹھائیں تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ ایسے ڈاکٹروں کے پاس کوئی ڈگری ہے بھی یا نہیں اور اگر ڈگری ہے بھی تو وہ کسی منظور شددہ ادارے سے جاری کی گئی ہے یا نہیں ۔ لوگوں نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیوں کہ ایسے نقلی ڈاکٹروں کی وجہ سے لوگوں کے مرض ٹھیک ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں اور مریض شفایاب ہونے کے بجائے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔