سری نگر//وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق سنیچر کی رات یر گئے تک شدید برف باری کی وجہ سے یہاں زمینی اورفضائی رابطے بند پڑے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی سپلائی بھی ،متاثر ہوئی ہے ۔اس دوران سرینگر جموںو شاہراہ ،مسلسل تیسرے روز بھی بند رہی ہے جس کو بحال کرنے کا کام جاری ہے ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کشمیر وادی میں 16جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں اتوار کے روز برف باری سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر رہی ہے جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں تازہ برف باری کے نتیجے میں یہاں پھر ایک بار سڑکیں بند ہو کر رابطے مسدود ہوئے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں بجلی سپلائی باری برف باری کے نتیجے میں متاثر ہوئی ہے ۔ وادی کشمیر میں اگر سنیچر کے روز جمعہ کو کوئی برف باری کو سڑکوں سے صاف کیا گیا تھا جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی سپلائی بھی بحال کی گئی تھی تاہم بیشتر علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کی شام کو بیشتر علاقوں میں برف باری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پھر ایک بار رابطہ سڑکیں مسدود ہوے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بھی خرابی ہوئی اور بجلی سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ادھر محکمہ بجلی کے ایک افسر نے بتایا جن جن علاقوں میں دوبارہ سپلائی متاثر ہوئی ہے اس صبح سویرے سے بحال کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے اور شام تک سبھی علاقوں میں سپلائی بحال ہوگی۔اس دوران اگر چہ انتظامیہ نے قصبہ جاتا کے اندرونی اور بیرونی سڑکوں سے برف ہٹا لی گئی ہے تاہم شام دیر گئی تک وادی مختلف دہی علاقوں میں سڑکیں برف سے ڈھکی تھی جس کے نتیجے میں عوام گھروں میں محصور ہ کر رہ گئے ہیں ۔تاہم حکام کا کہنا تھا پہلے اہم بڑی سڑکوں سے بڑف ہٹانے کا کام شروع کیا گیا ہے اور بعد میں دیگر سڑکوں سے برف ہٹالیا جاے گا ۔شام تک تک تمام علاقوں میں بجلی سپلائی کی بحالی اور سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری تھا ۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق بالائی علاقوں میں شدید برف باری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں برفانی تودے گرآنے کا خطرہ لاحق ہوا ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کا امکان ہے جس کے پیش نے ان علاقوں کے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھاری برف باری کے پیش نظر وادی کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کا امکان ہے۔جواہر ٹنل کے آر پار ناساز گار موسمی حالات کے پیش نظر انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع کے ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ لوگوں کی نقل وحرکت کے دوران احتیاط برتنے کی صلاح دیں اور ایسے علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں جہاں سے تودے گر آنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ نے گزشتہ دنوں ہی اس حوالے سے سبھی اضلاع کے ترقیاتی کمشنروں کو آگاہ کیا ہے کہ بھاری برف باری کے بعد پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کا امکان ہے جس کے پیش نظر ان علاقوں کے لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ادھر بالائی حصوں میں شدید برف باری کے باعث وادی کے وادی کو باقی دنیاں سے ملانے والے اہ شاہرائیںتیسرے روز بھی بند پڑ ہیں ۔اتوار کے روز بھی سرینگر جموں قومی شاہراہ پر رام بن کے کئی مقامات پر پسیوں اور پتھروں کے گرنے اور بانہال سیکٹر میں بھاری برفباری کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہے۔جبکہ پنتھیال کے مقام پر پتھر گرنے اور مروگ میں بھاری پسیاں گرآئیں،جس کے ہائی اتھارٹی کی جانب سے پسیاں ہٹانے کا کام جاری کیا گیا ہے۔اس دوران فورلین ٹنل سے بانہال اور بانہال سے شیر بی بی تک شاہراہ سے برف ہٹانے کیلئے تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری کام پر لگی ہوئی ہے تاہم مسلسل برفباری کی وجہ سے سڑک کی بحالی کا کام متاثر ہے۔شاہراہ کے حوالے سے سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس، ٹریفک شبیر احمد ملک نے بتایا کہ ہفتے کے روز بھی مسلسل برفباری اور بارشوں اور پتھروں اورپسیوں کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ مسلسل بندرہی جبکہ ناشری اور بانہال کے درمیان بارشوں اور برفباری کا سلسلہ ہفتے کی شام تک جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ کرول ، مہاڑ ، کیفٹیئریا موڑ ، ماروگ ، خونی نالہ، سیتا رام پسی سمیت ایک آدھ درجن سے زائید مقامات مقامات پسیوں اور پتھروں کی زد میں ہیں جبکہ رامسو اور بانہال کے درمیان مسلسل برفباری جاری تھی۔محکمہ موسمیات نے بتایا جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر 16 جنوری تک موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔انہوں نے بتایاجموں و کشمیر میں موسم میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کئی مقامات پر ہلکی بارش / ف باری ہوسکتی ہے، خاص طور پر مشرقی حصوں میں، “محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے ایک بیان میں کہا۔انہو ں نے کہااس کے بعد 16 جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوگا اور رات کا پارہ گرے گا۔










